نویل انعام یافتہ اپوزیشن رہنما ماچادو ملک سے باہر گئیں تو مفرور قرار دیں گے، اٹارنی جنرل وینزویلا

کراکس۔21نومبر (اے پی پی):وینزویلا کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نوبل انعام یافتہ اور اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو امن ایوارڈ وصول کرنے کے لیے ناروے گئیں تو انہیں مفرورتصور کیا جائے گا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے ’’اے ایف پی ‘‘کے مطابق ماریا کورینا ماچادو جو کہتی ہیں کہ وہ وینزویلا میں روپوش ہیں، نے 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ …

کراکس۔21نومبر (اے پی پی):وینزویلا کے اٹارنی جنرل نے کہا ہے کہ نوبل انعام یافتہ اور اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو امن ایوارڈ وصول کرنے کے لیے ناروے گئیں تو انہیں مفرورتصور کیا جائے گا۔ فرانسیسی خبررساں ادارے ’’اے ایف پی ‘‘کے مطابق ماریا کورینا ماچادو جو کہتی ہیں کہ وہ وینزویلا میں روپوش ہیں، نے 10 دسمبر کو اوسلو میں ہونے والی تقریب میں شرکت کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔

اٹارنی جنرل طارق ولیم صعب نے کہاکہ وینزویلا سے باہر ہونے اور متعدد فوجداری تحقیقات کا سامنا ہونے کے سبب انہیں مفرور تصور کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پر سازش، نفرت انگیزی اور دہشت گردی جیسے الزامات عائد ہیں۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ماچادو پر امریکا کی جانب سے کیریبین میں فوجی تعیناتی کی حمایت کرنے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی جہازوں اور لڑاکا طیاروں کو منشیات کے خلاف آپریشن کے نام پر تعینات کر چکے ہیں، تاہم وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ان کی بائیں بازو کی حکومت کو گرانا ہے۔

نوبیل انعام یافتہ ماچادو نے امریکی فوجی موجودگی کا خیرمقدم کیا ہےجس کے دوران الزامی منشیات بردار کشتیوں پر حملوں میں کیریبین اور بحرالکاہل میں 83 افراد ہلاک ہوئےاور واشنگٹن کے اس موقف کی بھی حمایت کی ہے کہ نکولس ما دورو ایک منشیات سمگلنگ کارٹل چلاتے ہیں۔وینزویلا ان کشتی حملوں میں ہونے والی اموات کو غیرقانونی ماورائے عدالت قتل قرار دیتا ہے۔

مزید خبریں