اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے خوراک پروگرام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں خوراک کی ترسیل قدرے بہتر ہوئی ہے مگر ایک لمبے عرصے سے زیر محاصرہ غزہ میں خوراک کی فراہمی روکنے کی لمبی کوششوں کے اثرات ختم کرنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔العربیہ کے مطابق اس لیے اب بھی خوراک و دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی اس سطح تک نہیں ہو سکی …
غزہ میں خوراک کی فراہمی جنگ بندی سے بہتر ہوئی، مکمل سفر لمبا ہے،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔22نومبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے خوراک پروگرام کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں خوراک کی ترسیل قدرے بہتر ہوئی ہے مگر ایک لمبے عرصے سے زیر محاصرہ غزہ میں خوراک کی فراہمی روکنے کی لمبی کوششوں کے اثرات ختم کرنے میں ابھی کافی وقت لگے گا۔العربیہ کے مطابق اس لیے اب بھی خوراک و دیگر اشیائے ضروریہ کی فراہمی اس سطح تک نہیں ہو سکی جو ضروری ہے۔
ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان مارٹن پینر نے کہا چیزیں بہتر ہو رہی ہیں اور لیکن جنگ بندی کے بعد بھی خوراک اور اشیائے ضروریہ کی غزہ کے رہنے والوں کی ضرورت کے مطابق ترسیل میں ابھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔ کہ یہ ایک لمبا سفر ہے۔ورلڈ فوڈ پروگرام کی ترجمان غزہ سے ویڈیو لنک پر جنیوا میں بات کر رہی تھیں۔ انہوں نے کہا لاکھوں افراد آج بھی اپنی روزہ مرہ کی انتہائی ضروری اور فوری ضروریات کے لیے ہماری مدد چاہتے ہیں۔
یاد رہے ماہ اگست کے دوران گلوبل فوڈ نامی ادارے نے بتایا تھا کہ کم از کم پانچ لاکھ فلسطینی عوام غزہ میں قحط کی زد میں ہیں۔ تاہم اب بہتری آ رہی ہے۔
ادھر اسی ہفتے کے شروع میں غزہ میں سرما کی پہلی سخت بارش ہوئی ۔ بارش کی شدت سے خوراک کی کئی فراہمی کی سہولتیں اور وسائل ضائع ہو گئے۔ حتیٰ کہ وہ خوراک بھی بے گھر فلسطینی اپنے پاس محفوظ نہ رکھ سکے جو انہوں نے اپنے پاس خیموں میں جمع کی تھی۔
فوڈ پروگرام کی ایک اور ترجمان عبیر عطیفا کے مطابق اس سے ہمیں اندازہ ہوا کے خیموں میں رہنے پر مجبور ان بے گھر فلسطینیوں کی خوراک فراہمی کے ساتھ بارش اور سرما میں اس کا بچاؤ بھی ایک اہم چیلنج ہو سکتا ہے۔
ترجمان نے مزید کہا جب سے جنگ بندی ہوئی ہے ورلڈ فوڈ پروگرام غزہ میں چالیس ہزار ٹن خوراک لانے میں کامیاب ہو سکا ہے لیکن یہ صرف غزہ کے تیس فیصد ضرورت کے لیے کافی ہیں۔ یہ خوراک اب تک سولہ لاکھ افراد میں سے پانچ لاکھ تیس ہزار تک ہی پہنچ سکی ہے۔








