سعودی امدادی ایجنسی کے تحت فلسطین، اردن اور سوڈان میں سیکڑوں ٹن کھجوریں اور ہزاروں فوڈ باسکٹس تقسیم

ریاض۔23نومبر (اے پی پی):سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز دنیا بھر میں انتہائی کمزور طبقات کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ایس پی اے کے مطابق شاہ سلمان مرکز نے اردن کی ہاشمی چیریٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے فلسطینی پناہ گزینوں اور اردن میں 500 ٹن کھجوریں تقسیم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اردن میں سعودی عرب کے نائب سفیر محمد …

ریاض۔23نومبر (اے پی پی):سعودی امدادی ایجنسی شاہ سلمان مرکز دنیا بھر میں انتہائی کمزور طبقات کو امداد کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ایس پی اے کے مطابق شاہ سلمان مرکز نے اردن کی ہاشمی چیریٹی آرگنائزیشن کے تعاون سے فلسطینی پناہ گزینوں اور اردن میں 500 ٹن کھجوریں تقسیم کرنے کے منصوبے کا آغاز کیا ہے۔منصوبے کی افتتاحی تقریب میں اردن میں سعودی عرب کے نائب سفیر محمد بن حسن مونس نے شرکت کی۔

اردو نیوز کے مطابق اردن میں سعودی ایجنسی کی برانچ کے ڈائریکٹر نایف الشماری نے بتایا کہ اس منصوبے کا مقصد فوڈ سکیورٹی اور انتہائی کمزور طبقات کے حالات زندگی کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضرورت مند افراد تک امداد کی فراہمی یقینی بنانے کےلیے منظور شدہ پارٹنرز کے ذریعے کھجوریں تقسیم کی جائیں گی۔

اردن کی چیئرٹی آرگنائزیشن کے سیکرٹری جنرل حسن الشبلی نے کہا کہ گزشتہ برس دو ہزار ٹن کھجوریں تقسیم کی گئیں، جس سے 15 لاکھ سے زائد افراد کو فائدہ پہنچا۔انہوں نے سعودی عرب اور اردن کے درمیان انسانی ہمدردی کےکام میں مضبوط تعلقات کی تعریف کی۔

علاوہ ازیں شاہ سلمان مرکز نے دمشق میں ایک ہزار 157 خاندانوں میں کھجور کے کارٹن اور دیر الزور میں 800 خاندانوں میں فوڈ باسکٹس تقسیم کی ہیں۔سوڈان میں 530 خاندانوں میں فوڈ باسکٹس تقسیم کی گئیں جن سے دو ہزار 640 افراد کو فائدہ پہنچا جبکہ افعانستان کے صوبہ بغلان میں 440 فوڈ باسکٹس فراہم کی گئیں جن سے دو ہزار 640 افراد کو فائدہ پہنچا۔شاہ سلمان مرکز نے 2015 میں قیام کے بعد سے 109 ملکوں میں 8.2 ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے تین ہزار 814 منصوبوں پر عملدرآمد کیا ہے۔

اس کی کوششوں کا دائرہ فوڈ سکیورٹی، صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی، شیلٹر سمیت اہم شعبوں تک ہے۔سعودی ایجنسی کمزور طبقات کو با اختیار بنانے اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے کےلیے اقوام متحدہ کے اداروں اور بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتی ہے۔