اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ برآمدات پر مبنی پائیدارنموکیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتائج سامنے آرہے ہیں، مستحکم مسابقت، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی نمو کے حصول کیلئے حکومت کی سمت واضح ہے۔ منگل کوسماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہاکہ نجی شعبہ کی قیادت میں برآمدات پرمبنی پائیدارنموکیلئے وزیراعظم کے نجی شعبے کی قیادت …
برآمدات پر مبنی پائیدارنموکیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتائج سامنے آ رہے ہیں، خرم شہزاد

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وزیرخزانہ کے مشیرخرم شہزادنے کہاہے کہ برآمدات پر مبنی پائیدارنموکیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتائج سامنے آرہے ہیں، مستحکم مسابقت، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی نمو کے حصول کیلئے حکومت کی سمت واضح ہے۔ منگل کوسماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ایکس پراپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہاکہ نجی شعبہ کی قیادت میں برآمدات پرمبنی پائیدارنموکیلئے وزیراعظم کے نجی شعبے کی قیادت میں ورکنگ گروپس بنانے کے فیصلے پر سوالات اٹھائے گئے تھے، برآمدات پر مبنی پائیدارنموکیلئے اٹھائے جانیوالے اقدامات کے نتائج اب سامنے آرہے ہیں اوراس سے اس بات کی بھی تصدیق ہورہی ہے کہ پالیسی سازی میں منظم اور معتبر نجی شعبے کی شمولیت کس قدر اہم ہے، اس اقدام سے مشاورت کو عملی اقدامات میں بدلا جا رہا ہے اور اصلاحات کے ایجنڈے کوموثراندازمیں برآمدات پر مبنی نمو سے جوڑا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا ازسرنو جائزہ لینے اور اصلاحات کی تجاویز پیش کرنے کے لیے وزیراعظم نے نجی شعبہ سے معروف ارکان پر مشتمل ورکنگ گروپ نے اہم پیش رفت کی ہے، برآمدات پر عائد 0.25 ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج فوری طور پر ختم کر دیا گیا ہے، جس سے برآمدکنندگان کو براہ راست لاگت میں ریلیف ملا ہے اور عالمی منڈیوں میں مسابقت بہتر ہوئی ہے،نجی شعبہ کی قیادت میں عبوری سٹیئرنگ کمیٹی ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ میں دستیاب 52 ارب روپے کے استعمال کی نگرانی کرے گی۔
انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کے وسائل کو صرف اور صرف برآمدی مسابقت،تحقیق و ترقی، مہارت، پیداواری صلاحیت اور مارکیٹ سے متعلق سہولت کار اقدامات کیلئے استعمال میں لایاجائیگا، یہ فنڈز بنیادی ڈھانچہ کے منصوبوں کے لیے استعمال نہیں ہوگی۔ خرم شہزادنے کہاکہ ان اصلاحات سے واضح ہے کہ برآمدات میں اضافہ ہماری قومی ترجیح ہیں اوربرآمدات پرٹیکس عائد کرنے کی بجائے انہیں سہولت دینے کی طرف ایک بنیادی تبدیلی سامنے آئی ہے، ان اقدامات سے ایک نیا ماڈل سامنے آیا ہے جس میں نجی شعبہ اصلاحات کی سمت طے کرتا ہے اور حکومت وسائل کو زیادہ اثر انگیز مسابقتی شعبوں کی طرف موڑرہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ کا بین الاقوامی معیار کے مطابق تھرڈ پارٹی آڈٹ کیا جائے گا جبکہ فنڈ کی مضبوط گورننس کے لیے نجی شعبے سے چیئر کی تقرری ہوگی۔اسی طرح ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان(ٹڈاپ) کو بہتر ایکسپورٹر سپورٹ اور عالمی مارکیٹنگ کے لیے ازسرنو تشکیل دیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہ حکومت کی جانب سے نجی شعبے کے تعاون سے اٹھایا گیا ایک بامعنی اصلاحاتی قدم ہے۔ڈھانچہ جاتی اصلاحات کاعمل جاری ہیں جبکہ نجی شعبے کی قیادت میں ورکنگ گروپس پہلے ہی ٹیکس ، توانائی اوربجلی کی قیمتوں کے حوالہ سے سفارشات کو آگے بڑھا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مستحکم مسابقت، زیادہ سرمایہ کاری اور برآمدات پر مبنی پائیدار معاشی نمو کے حصول کیلئے حکومت کی سمت واضح ہے۔








