اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے زیرِ اہتمام چوتھی سالانہ دو روزہ بین الاقوامی عربی کانفرنس بعنوان ’’اندلسی ادب: عرب و مغرب کے مابین تہذیبی و فنی روابط اور اثرات‘‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔ کانفرنس میں اردن، الجزائر، عُمان، عراق، مراکش اور مصر سمیت متعدد عرب ممالک سے نامور اساتذہ، محققین اور ماہرینِ ادب شرکت کر رہے ہیں۔ سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی …
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں سالانہ دو روزہ بین الاقوامی عربی کانفرنس بعنوان’’اندلسی ادب: عرب و مغرب کے مابین تہذیبی و فنی روابط اور اثرات‘‘ کا آغاز ہو گیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ عربی کے زیرِ اہتمام چوتھی سالانہ دو روزہ بین الاقوامی عربی کانفرنس بعنوان ’’اندلسی ادب: عرب و مغرب کے مابین تہذیبی و فنی روابط اور اثرات‘‘ کا آغاز ہو گیا ہے۔ کانفرنس میں اردن، الجزائر، عُمان، عراق، مراکش اور مصر سمیت متعدد عرب ممالک سے نامور اساتذہ، محققین اور ماہرینِ ادب شرکت کر رہے ہیں۔
سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سینیٹر نور الحق قادری افتتاحی سیشن کے مہمان خصوصی تھے جبکہ وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے تقریب کی صدارت کی۔ سینیٹر نور الحق قادری نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام جہاں بھی گیا ایران، مصر یا ہندوستان تہذیب و ثقافت کو نہیں چھیڑا صرف توحید و رسالت کا درس دیا،اسلام نے کبھی مقامی ثقافت کے ساتھ تصادم کا راستہ نہیں اپنایا بلکہ اسے فروغ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اندلس کو فتح کرنا اس طرح کی لشکر کشی نہیں تھی بلکہ یہ تہذیبی، ثقافتی اور علمی انقلاب تھا،اندلس کی ثقافت کا مغرب اور اسلامی دنیا کے مشرق میں بھی اثر رہا۔ سینیٹر نور الحق قادری نے کہا کہ 9 سو سال مسلمانوں کی حکومت میں مسیحیوں کو مذہبی آزادی دی یورپ اور قرطبہ میں مسیحیوں کی کانفرنسیں ہوئیں۔
وائس چانسلر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ناصر محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ تاریخ اسلام میں دیکھیں تومعلوم ہوتا ہے کہ ان آٹھ صدیوں میں ہم بہت بڑے ورثے کے مالک ہیں، اسلامی تہذیب نے زندگی گزارے کا طریقہ و سلیقہ سکھایا، ہم علم کا منبع تھے، اگرآج ہم چاہیں تو پورا خزانہ ہمارے پاس موجود ہے ،صرف اخلاقی مضبوطی اپنا کر اس سے مستفید ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ کے نقوش مٹا نہیں سکتے ،سپین کے ہر گلی کوچوں عمارتوں میں اسلام کی عظمت کے دور کی جھلک نظر آتی ہے،بہت سے سائنسدان، محققین، فلسفی اور علماء کا دیا ہوا علم آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، جب بھی کسی تہذیب نے ترقی کی وہ کسی ایک میدان میں نہیں ہوئی فلسفہ، ریاضی، طب، فلکیات، جغرافیہ، شاعری، موسیقی اور ادب ان تمام علوم نے دنیا کو روشنی دی۔ دنیا میں انسانیت نے ترقی جب بھی کی ہے وہ تہذیبوں کے اشتراک سے کی ہے۔
دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاحی سیشن میں ڈاکٹر حبیب الرحمن عاصم، پروفیسر ڈاکٹر فود عبدالمطلب اور پروفیسر ڈاکٹر سید جاسم عباس الزبیدی کلیدی مقرر تھے جبکہ ڈین فیکلٹی آف عریبک اینڈ اسلامک سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر شاہ محی الدین ہاشمی اور صاحبزادہ سید قمر الحق، محمدی شریف یونیورسٹی چنیوٹ نے بھی اپنے تاثرات بیان کئے۔ شعبہ عربی کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالمجید بغدادی نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ 150 مقالہ جات موصول ہوئے جن میں سے 92 مقالاجات پیش کئے جا رہے ہیں۔








