کتابیں علم، شناخت اور دیرپا کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہیں، خالد مقبول صدیقی

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کتابوں کی مستقل اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کتابیں علم، شناخت اور دیرپا کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔وہ منگل کو لوک ورثہ میں 25 سے 27 نومبر تک جاری گیارہویں نیشنل بک فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارلیمانی سیکرٹری وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ …

اسلام آباد۔25نومبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کتابوں کی مستقل اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کتابیں علم، شناخت اور دیرپا کامیابی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔وہ منگل کو لوک ورثہ میں 25 سے 27 نومبر تک جاری گیارہویں نیشنل بک فیسٹیول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس میں پارلیمانی سیکرٹری وزارتِ تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت فرح ناز اکبر نے بھی شرکت کی۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے طلبہ، اساتذہ اور شرکاء پر زور دیا کہ وہ کتب بینی کو اپنی عادت بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کتابیں آپ کی شناخت ہیں اور آپ کی شناخت ہی آپ کی تقدیر بناتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قلم اور کتاب کے بغیر شناخت قائم کرنا مشکل ہے۔انہوں نے حصولِ علم کی مذہبی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا پہلا حکم ’’اقرا‘‘ (پڑھو) ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان مذہب کے نام پر قائم ہوا تھا اس لئے ہمیں اپنی زندگی دین کی تعلیمات کے مطابق گزارنی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ علم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جتنا زیادہ حاصل ہو جائے، اتنا ہی کم محسوس ہوتا ہے۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے ڈیجیٹل دور میں کتاب میلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم ڈیجیٹل دور میں رہ رہے ہیں خصوصاً چیٹ جی پی ٹی جیسے ٹولز کے دور میں لیکن ہمیں کتابوں سے اپنا تعلق نہیں توڑنا چاہئے۔اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں کتابیں پڑھنا ایک عام روایت تھی جبکہ آج کے دور میں بچے زیادہ تر موبائل استعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی ضروری ہے لیکن کتاب پڑھنا بھی اُتنا ہی ضروری ہے۔فرح ناز اکبر نے بک سٹالز کا دورہ بھی کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئندہ بھی ایسی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خصوصاً نوجوان نسل میں کتاب بینی کے شوق کو فروغ دیا جا سکے۔