اقوام متحدہ ۔26نومبر (اے پی پی):پاکستان نے لیبیا میں بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات کے دوران لیبیا کی عدالتی خودمختاری کے مکمل احترام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) کو اپنے اقدامات میں غیر جانب داری اور معروضیت کو یقینی بنانا چاہیے۔سلامتی کونسل میں "آئی سی سی لیبیا" کے موضوع پر بحث کے دوران پاکستانی مندوب آصف خان نے کہا کہ اگرچہ …
پاکستان کا اقوام متحدہ میں لیبیا کی عدالتی خودمختاری کے احترام کا مطالبہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔26نومبر (اے پی پی):پاکستان نے لیبیا میں بین الاقوامی جرائم کی تحقیقات کے دوران لیبیا کی عدالتی خودمختاری کے مکمل احترام پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی ) کو اپنے اقدامات میں غیر جانب داری اور معروضیت کو یقینی بنانا چاہیے۔سلامتی کونسل میں "آئی سی سی لیبیا” کے موضوع پر بحث کے دوران پاکستانی مندوب آصف خان نے کہا کہ اگرچہ پاکستان 1998 کے روم اسٹیچو کا حصہ نہیں، تاہم وہ بین الاقوامی جرائم پر شفاف اور غیر امتیازی احتساب کا حامی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چناؤ اور دوہرے معیارات عالمی انصاف کے نظام پر اعتماد کو کمزور کرتے ہیں اور آئی سی سی کی ساکھ اسی وقت مضبوط ہو سکتی ہے جب اس کے اقدامات مکمل غیر جانبداری پر مبنی ہوں۔پاکستانی مندوب نےآئی سی سی اور لیبیا کے حکام کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کو لیبیا کی عدالتی خودمختاری اور جائز تحفظات کا لحاظ رکھتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ قومی ملکیت پر مبنی تعاون ہی دیرپا اور مؤثر نتائج دے سکتا ہے۔آصف خان نے امید ظاہر کی کہ لیبیا اور آئی سی سی کے درمیان تعمیری رابطہ جاری رہے گا، جو ملک میں پائیدار امن، مفاہمت اور انصاف کے فروغ میں مددگار ثابت ہوگا۔اس سے قبل بحث کا آغاز کرتے ہوئے آئی سی سی کی نائب پراسیکیوٹر نزہت شمیم خان نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں لیبیا میں احتساب کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق لیبیا میں انصاف کی جانب نئی رفتار پیدا ہوئی ہےاور جلد اس صورتحال میں عدالت میں پہلا ٹرائل شروع ہونے کی توقع ہے۔








