غزہ میں سینکڑوں شدید بیمار اور زخمی افراد طبی امداد کے انتظارمیں دم توڑ چکے ہیں، ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز

جنیوا۔3دسمبر (اے پی پی):ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں سینکڑوں شدید بیمار اور زخمی افراد طبی امداد کے انتظارمیں دم توڑ چکے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی عہدیدار ہانی اسلیم نے جنیوا میں ایم ایس ایف کے ہیڈ کوارٹر میں گفتگو کے دوران دنیا بھر کے ممالک سے التجا کی ہے کہ وہ …

جنیوا۔3دسمبر (اے پی پی):ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز نے کہا ہے کہ غزہ میں سینکڑوں شدید بیمار اور زخمی افراد طبی امداد کے انتظارمیں دم توڑ چکے ہیں۔ انڈیپنڈنٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کی عہدیدار ہانی اسلیم نے جنیوا میں ایم ایس ایف کے ہیڈ کوارٹر میں گفتگو کے دوران دنیا بھر کے ممالک سے التجا کی ہے کہ وہ غزہ کے ایسے ہزاروں باشندوں کے لئے اپنے دروازے کھول دیں جنہیں طبی امداد کے لئے غزہ سے فوری انخلا کی اشد ضرورت ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ شدید بیمار اور زخمی افراد کے غزہ سے فوری انخلا کی ضرورت واقعی بہت زیادہ ہے۔ اب تک مختلف ممالک کی طرف سے جتنے شدید بیمار اور زخمی فلسطینیوں کو قبو ل کیا گیا ہے ان کی تعداد سمندر میں صرف ایک قطرہ ہے۔اقوام متحدہ کے عالمی اداراہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے اندازے کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کو شروع ہونے والی جنگ میں اب تک صرف آٹھ ہزار سے زیادہ مریضوں کو غزہ سے باہر لے جایا گیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کے مطابق 16500 سے زیادہ مریضوں کو ابھی بھی فلسطینی سرزمین سے باہر علاج کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ تعداد صرف طبی انخلا کے لئے رجسٹرڈ مریضوں کی بنیاد پر تھی جبکہ حقیقی تعداد بہت زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے کہ یہ تعداد اس سے تین سے چار گنا زیادہ ہے۔ آج تک 30 سے زیادہ ممالک فلسطینی مریضوں کو قبول کر چکے ہیں لیکن مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت صرف چند ایک نے بڑی تعداد میں مریضوں کو قبول کیا ہے۔یورپ میں اٹلی 200 سے زیادہ مریض لے چکا ہے جبکہ فرانس اور جرمنی جیسے بڑے ممالک نے ابھی تک کوئی مریض نہیں لیا ہے۔نومبر میں سوئٹزرلینڈ نے غزہ کے 20 بچوں کو لیا جو دو گروپوں میں وہاں پہنچے تھے۔دو ماہ سے 16 سال کی عمر کے 13 بچوں کے ساتھ ہانی اسلیم گزشتہ ہفتے گئی تھیں جن میں چار بچے جو پیدائشی طور پر دل کے شدید امراض میں مبتلا تھے، ساتھ ہی کینسر کے مریض اور پیچیدہ آرتھوپیڈک سرجری کی ضرورت والے بچے بھی شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر بچے سوئٹزرلینڈ پہنچنے کے بعد سرجری کے لئے گئے تھے تاکہ ان کی جا ن بچائی جا سکے۔ہانی اسلیم نےاس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جیسے جیسے غزہ کے حالات مزید مایوس کن ہوتے جا رہے ہیں، طبی انخلا کی رفتار سست پڑ گئی ہے۔ابتدائی طور پر اوسطاً ہر ماہ تقریباً 1500 مریض چلے جاتے تھے لیکن مئی 2024 میں اسرائیل کی جانب سے رفح کراسنگ کو مصر میں بند کرنے کے بعد ماہانہ اوسط کم ہو کر 70 کے قریب رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی مریض کو علاج تک رسائی کے لئے غزہ چھوڑنے سے نہیں روکا جانا چاہیے۔

مزید خبریں