کابل۔3دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے)نے کہا ہے کہ افغانستان میں15 لاکھ افراد مختلف نوعیت کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں زیادہ تر معذوریاں کئی دہائیوں پر محیط جنگ و تنازعات کا نتیجہ ہیں۔ شنہوا کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے)نےایکس پر جاری بیان میں کہا کہ معذوری کا …
افغانستان میں 15 لاکھ افراد معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اقوام متحدہ

مزید خبریں
کابل۔3دسمبر (اے پی پی):افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے)نے کہا ہے کہ افغانستان میں15 لاکھ افراد مختلف نوعیت کی معذوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، جن میں زیادہ تر معذوریاں کئی دہائیوں پر محیط جنگ و تنازعات کا نتیجہ ہیں۔ شنہوا کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے)نےایکس پر جاری بیان میں کہا کہ معذوری کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے جو جنگی حالات کا براہ راست شکار ہیں۔ مشن کے مطابق افغانستان دنیا کے اُن ممالک میں سرفہرست ہے جہاں بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے دھماکہ خیز مواد کی آلودگی سب سے زیادہ ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری تنازعات کے دوران بچھائی گئی بارودی سرنگیں اور بغیر پھٹا گولہ بارود تاحال روزانہ انسانی جانیں لینے اور انہیں شدید زخمی کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران صوبوں قندھار، ارزگان اور شمالی صوبہ بلخ میں مختلف دھماکوں کے واقعات میں 7 افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے۔افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریباً 1,150 مربع کلومیٹر رقبے پر بارودی سرنگیں اور دھماکہ خیز مواد اب بھی موجود ہیں، جس سے عام شہریوں کی جانیں مسلسل خطرے میں ہیں۔








