فرانس میں مذہبی امتیاز کے واقعات میں اضافہ، ہر تیسرے مسلمان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، رپورٹ کے واقعات میں اضافہ، ہر تیسرے مسلمان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ، رپورٹ

پیرس۔5دسمبر (اے پی پی):فرانس میں مذہبی امتیاز کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر تیسرے مسلمان کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ رپورٹ فرانس کے انسانی حقوق سے متعلق محتسب ادارے کی جانب سےجاری کی گئی، جو پانچ ہزار فرانسیسی شہریوں پر مبنی سروے کے نتائج پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق …

پیرس۔5دسمبر (اے پی پی):فرانس میں مذہبی امتیاز کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں اور تازہ رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر تیسرے مسلمان کو اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔العربیہ کے مطابق یہ رپورٹ فرانس کے انسانی حقوق سے متعلق محتسب ادارے کی جانب سےجاری کی گئی، جو پانچ ہزار فرانسیسی شہریوں پر مبنی سروے کے نتائج پر مشتمل ہے۔رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر سات فیصد شہریوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران انہیں مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ 2016 میں یہ شرح صرف پانچ فیصد تھی۔

مسلمانوں کے حوالے سے یہ تناسب سب سے زیادہ دیکھا گیا جو بڑھ کر 34 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ یہودیت، بدھ مت اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے 19 فیصد افراد نے بھی امتیازی سلوک کی شکایات کیں، جبکہ عیسائیوں میں یہ شرح چار فیصد ریکارڈ کی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسلمان خواتین مذہبی تعصب کا سب سے زیادہ نشانہ بنتی ہیں، جن میں 38 فیصد نے امتیازی سلوک کی شکایت کی۔ سب سے زیادہ مشکلات اُن خواتین کو درپیش ہیں جو حجاب یا سکارف کا استعمال کرتی ہیں۔

انہیں نہ صرف عوامی مقامات پر ہراسانی کا سامنا ہوتا ہے بلکہ پیشہ ورانہ میدان میں بھی شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتیٰ کہ ملازمت ترک کرنا پڑتی ہے۔فرانس میں نسلی اور مذہبی امتیاز کے پیمانے کا درست اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ ملک میں ایسے اعداد و شمار جمع کرنا قانونی طور پر ممنوع ہے جن سے کسی فرد کے نسلی پس منظر کی شناخت ہو سکتی ہو۔ اس پابندی کے باوجود رپورٹ میں امتیازی واقعات میں مسلسل اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

مزید خبریں