طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو خطرات ہیں، افغان ڈیمو کریٹک اپوزیشن کا دورہ برسلز میں یورپ کو انتباہ

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے دورہ برسلز میں طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئےمطالبہ کیا ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے یورپ اور عالمی برادری دباؤ ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے ۔ افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے 3 تا 5 دسمبر تک برسلز کا دورہ کیا ۔یورویشیا ریویو …

اسلام آباد۔6دسمبر (اے پی پی):افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نے دورہ برسلز میں طالبان پالیسیوں سے یورپ سمیت خطے کو بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کرتے ہوئےمطالبہ کیا ہے کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے یورپ اور عالمی برادری دباؤ ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے ۔ افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے وفد نے 3 تا 5 دسمبر تک برسلز کا دورہ کیا ۔یورویشیا ریویو کے مطابق وفد نے انڈیپنڈنٹ ڈپلومیٹ اور یورپین فاؤنڈیشن فار ڈیموکریسی کے اشتراک سے ہونے والی نشستوں میں اپنا موقف بیان کیا۔

افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن وفد کے مطابق طالبان کی حکمرانی افغانستان کو ناکام ریاست کی طرف دھکیل رہی ہےطالبان حکومت کے اثرات براہِ راست یورپ کی سلامتی تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن کے مطابق افغانستان کی سرزمین خطے میں حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے، خواتین کے حقوق کی شدید پامالی، امدادی اداروں پر پابندیوں اور سیاسی عدم شمولیت بنیادی خطرات ہیں۔

افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن وفد نے زور دیا کہ طالبان نے دوحہ معاہدے سمیت تمام وعدے توڑتے ہوئے جامع حکومت بنانے کی بجائے محدود گروہ کو اقتدار دیا۔طالبان کی پالیسیوں کے باعث غیر قانونی نقل مکانی، انتہا پسندی کے پھیلاؤ بالخصوص یورپ میں سکیورٹی خدشات بڑھا رہی ہے۔ افغان ڈیموکریٹک اپوزیشن نےمطالبہ کیا کہ خطے کو مزید تباہی سے بچانے کے لئے یورپ اور عالمی برادری دباؤ ، پابندیوں اور سفارتی تنہائی کے ذریعے طالبان کو مجبور کرے ، صرف سخت اور مربوط عالمی حکمتِ عملی ہی افغانستان کو مکمل تباہی سے بچا سکتی ہے، افغانستان سے پنپتی دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان بھی متعدد بار ناقابل تردید شواہد پیش کر چکا ہے، دہشت گردوں کی سرپرستی اور بدترین انسانی حقوق کی پامالی کے باعث طالبان رجیم حکومت امن کی کوششوں کے لئے شدید خطرہ ہے۔

مزید خبریں