ریاض۔7دسمبر (اے پی پی):سعودی ادارے نیشنل سینٹر فار نان پرافٹ سیکٹر ( این سی این پی) کے زیر اہتمام پہلا انٹر نیشنل نان پرافٹ فورم( بیانڈ پرافٹ )سعودی دارالحکومت ریاض میں اختتام پذیر ہو گیا۔ فورم کا انعقاد سعودی عرب کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی اور این سی این پی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین احمد الراجہی کی سرپرستی میں کیا گیا۔ تین روزہ فورم میں …
سعودی عرب، پہلا انٹر نیشنل نان پرافٹ فورم ریاض میں اختتام پذیر ہو گیا،43 معاہدوں پر دستخط

مزید خبریں
ریاض۔7دسمبر (اے پی پی):سعودی ادارے نیشنل سینٹر فار نان پرافٹ سیکٹر ( این سی این پی) کے زیر اہتمام پہلا انٹر نیشنل نان پرافٹ فورم( بیانڈ پرافٹ )سعودی دارالحکومت ریاض میں اختتام پذیر ہو گیا۔ فورم کا انعقاد سعودی عرب کے وزیر برائے انسانی وسائل و سماجی ترقی اور این سی این پی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین احمد الراجہی کی سرپرستی میں کیا گیا۔ تین روزہ فورم میں شرکا کی تعدا د3800تک پہنچ گئی جن میں سینئر حکام، سرکاری اور نجی شعبوں اورغیر منافعتی اداروں کے نمائندے، بین الاقوامی ادارے، انسانی فلاح و بہود کے لئے کام کرنے والی تنظیمیں، سماجی ادارے اور کارپوریٹ سماجی ذمہ داریوں کے راہنما شامل تھے۔
سعودی عرب سمیت دنیا کے 20 ممالک سے ایک سو سے زیادہ مقررین نے پینل ڈسکشنز میں حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایگزیکٹو پروگرام اور 25 ورکشاپس میں بھی شرکت کی۔ ان پروگرامز میں نان پرافٹ شعبہ کے مستقبل کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کس طرح اہل لوگوں اور اداروں کو مضبوط بنا کر ، شراکت داریوں کو وسعت دے کر اور بین الاقوامی تجربے سے استفادہ کرتے ہوئے اس کے معاشی اور سماجی اثرات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔فورم کے دوران این سی این پی نے دو اقدامات کا اعلان کیا۔

ان میں پہلا نان پرافٹ انشورنس انیشی ایٹو” وسق”اور دوسرا نان پرافٹ ریسرح ایوارڈزہے۔ دونوں اقدامات کا مقصد اس شعبہ میں کام کرنے والے لوگوں کی معاونت ، تحقیقی اور علمی استعداد کو متحرک کرنا ، اختراع کو فروغ دینا اور غیر منفعتی اداروں کی ادارہ جاتی صلاحیتوں کی تعمیر ہے۔ اس فورم کے دوران 43 معاہدوں اور تعاون اور مفاہمت کی یادداشتوں پر بھی دستخط کئے گئے۔
ان میں اداروں کی ترقی، سائنسی تحقیق، استعداد میں اضافے ، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور ڈیٹا منیجمنٹ جیسے شعبوں کے معاہدے اور تعاون و مفاہمت کی یادداشتیں شامل ہیں۔ اس کا مقصد شراکت داری کو وسعت دینا، نان پرافٹ آرگنائزیشنز کو بااختیار بنانا اور ان کی تیاررہنے کی حالت اور موثر ہو نے کو وسعت دینا ہے ۔ فورم کی سرگرمیوں میں این سی این نے کارپوریٹ والنٹیئرنگ نیٹ ورک کا اجرا کیا جو نجی شعبہ کے اداروں کے اندر رضاکاری کے شعبوں کا قیام ہے۔ اس کوشش کے نتیجہ میں نان پرافٹ شعبہ کے اداروں کے درمیان روابط قائم ہوں گے۔
کارپوریٹ والنٹیئرنگ کے اثرات میں اضافہ ہوگا اور عملی رہنمائی کی ترقی ، اہدافی اقدامات کے اجرا اور رضاکارانہ سرگرمیوں میں مثبت مسابقت کے ذریعے اعلیٰ نتائج کی حامل سماجی شمولیت کی حوصلہ افزائی ہو گی۔فورم کے دوران این سی این پی نے نان پرافٹ آرگنائزیشنز کو سماجی سرمایہ کاری کے 29 سرٹیفیکیٹ بھی جاری کئے جس سے اگست میں اعلان کردہ سماجی نتائج کی حامل سرمایہ کاری قواعد و ضوابط فعال ہوئے۔ ان قواعد و ضوابط کا مقصد سرٹیفیکیشن کے عمل کو ریگولیٹ کر نا ہے ۔ اس کا مقصد اداروں کی سماجی اثرات کی حامل سرمایہ کاری کے لئے حوصلہ افزائی بھی ہے اور اس کا مقصد سرٹیفائیڈ اداروں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانا بھی ہے۔
فورم کے دوران نیشنل والنٹیئرنگ ایوارڈ کی تقریب کا انعقاد بھی ہوا۔ اس موقع پر 37 کامیاب افراد و اداروں کو مجموعی طور پر اکتیس ایوارڈ دیئے گئے۔یہ ایوارڈ 4 شعبوں میں دیئے گئے جن میں اعزازی ، ادارہ جاری ، رضاکاری کی سرگرمیاں اور انفرادی رضاکار شامل ہیں۔ این سی این پی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد السویلم نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ ریاض میں انٹرنیشنل نان پرافٹ فورم کے انعقاد سے اس شعبہ کے لئے سعودی قیادت کی بھرپور حمایت کی عکاسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر منفعتی شعبہ سعودی وژن 2030 کے تحت پائیدار ترقی کا بنیادی محرک ہے ۔ یہ ایک باہم مربوط معاشرے کی تعمیر کا بنیادی محرک بھی ہے۔
احمد السویلم نے فورم کو ایک ایسا پلیٹ فارم قرار دیا جو دنیا بھر سے اس شعبہ کے ماہرین اور رہنمائوں کو ایک جگہ جمع ہو نے کا موقع فراہم کرتا ہے اور تعاون اور تزویراتی شراکت کی نئی راہیں کھولتا ہے۔ اس سے سعودی عرب کی سماجی اختراع کے مرکز اور غیر منافعتی شعبہ کی ترقی کے معاون کی حیثیت کو تقویت ملتی ہے۔ احمد السویلم کے مطابق اس فورم کا مقصدگورننس کی ترقی، شراکت داریوں کی تشکیل ، اختراع کو فعال بنانے ، جدید ٹیکنالوجیز پر دسترس اورانسانی ذہانت اور ہنر مندی میں سرمایہ کاری کے ذریعے انسانی ترقی کے محرک کے طور پر غیر منفعتی شعبہ کے کردار کا نیا تصور پیش کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ پروفیشنل نیٹ ورک کی توسیع اور سماجی شعبہ میں نئی سرمایہ کاری سے لے کر غیر منفعتی اداروں کے بہترین عالمی انداز اپنانے میں معاونت تک اس فورم کے ٹھوس نتائج برآمد ہوں گے۔ اس سے سعودی عرب اور اس سے باہر ایک موثر ، جامع اور پائیدار نان پرافٹ ایکو سسٹم کی تشکیل میں ہمارا حصہ شامل ہوگا۔ فورم کے پہلے ایڈیشن کی میزبانی سے سعودی عرب نان پرافٹ سیکٹر کی عالمی سطح پر تبدیلی کو آگے بڑھانے میں معاونت کر رہا ہے اور اس شعبہ میں اختراع اور اثر کے مرکزکی حیثیت سے اپنے کردار کو مضبوط کر رہاہے۔
فورم کا اختتام رضاکاروں کے عالمی دن کے موقع پر ہوا جو رضاکاروں کو خراج تحسین پیش کرنے اور دنیا بھر میں رضاکارانہ سرگرمیوں کی قدر کی ترقی کو اجاگرکرنے کے لئے منایا جاتا ہے۔ اس سے سعودی عرب کے غیر منفعتی شعبہ میں رضا کاروں کے اہم کردار کو اجاگر کرنے کا موقع بھی ملا۔اپنے سیشنز، اقدامات اور نیشنل والنٹیئرنگ ایوارڈ کے اجرا سے فورم نے ایک ایسے نئے دور کی عکاسی کی ہے جس میں سعودی عرب ایک زیادہ منظم اور زیادہ تاثر رکھنے والا والنٹیئر ایکو سسٹم تشکیل دے رہا ہے۔
فورم کے دوران رضاکاروں کی خدمات کے اعتراف سے سعودی عرب کے اس عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ رضاکارانہ سرگرمیوں کے کلچر کو پائیدار ترقی کے ایک اہم ستون کی حیثیت سے فروغ دے رہا ہے جو سعودی عرب کے وژن 2030کے مقاصد سے ہم آہنگ ہے اور اس کا مقصد غیر منفعتی شعبہ میں کمیونٹی کی سطح پر شراکت میں اضافہ کر کے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے اثرات کو وسعت دینا ہے۔








