تھائی لینڈ میں جنوب مشرقی ایشیائی کھیلوں کا آغاز، بدنظمی اور سرحدی کشیدگی نے رنگ پھیکا کر دیا

بینکاک۔8دسمبر (اے پی پی):جنوب مشرقی ایشیائی کھیل (سائوتھ ایسٹ ایشیا گیمز ) کل (منگل کو )تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں باضابطہ طور پر شروع ہوں گے ، تاہم تقریبِ افتتاح سے قبل ہی بدانتظامی اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں نے اس اہم کھیلوں کے میلے پر سایہ ڈال دیا ہے۔اے ایف پی کے مطابق یہ مقابلے 20 دسمبر تک بنکاک اور ساحلی صوبے چون …

بینکاک۔8دسمبر (اے پی پی):جنوب مشرقی ایشیائی کھیل (سائوتھ ایسٹ ایشیا گیمز ) کل (منگل کو )تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں باضابطہ طور پر شروع ہوں گے ، تاہم تقریبِ افتتاح سے قبل ہی بدانتظامی اور تھائی لینڈ و کمبوڈیا کے درمیان تازہ سرحدی جھڑپوں نے اس اہم کھیلوں کے میلے پر سایہ ڈال دیا ہے۔اے ایف پی کے مطابق یہ مقابلے 20 دسمبر تک بنکاک اور ساحلی صوبے چون بُری میں منعقد ہوں گے، جن میں آسیان خطے کے 11 ممالک کے ہزاروں کھلاڑی فٹبال، فینسنگ، سکیٹ بورڈنگ، سیلنگ اور مختلف کامبیٹ سپورٹس سمیت متعدد ایونٹس میں حصہ لیں گے۔

مقابلوں میں عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی بھی شامل ہیں، جن میں فلپائن کی اولمپک ویٹ لفٹنگ چمپیئن ہِدی لین دیاز، انڈونیشیا کے رِزکی جونیانشاہ اور تھائی لینڈ کے بیڈمنٹن سلور میڈلسٹ کُن لاوُت ویتِڈسارن شامل ہیں۔جنوب مشرقی ایشیائی کھیلوں کی افتتاحی تقریب سے قبل ہی انتظامات پر سخت تنقید سامنے آئی ہے۔ گزشتہ ہفتے کھیلوں کے پہلے ہی دن ویتنام اور لاؤس کے درمیان فٹبال میچ سے قبل قومی ترانے بجانے میں ناکامی نے منتظمین کو شرمندگی کا سامنا کرایا، جس کے باعث کھلاڑیوں اور کوچز کو بغیر موسیقی خود ترانے گانا پڑے۔

مقامی میڈیا کے مطابق تھائی لینڈ کی سپورٹس اتھارٹی نے اس کو آڈیو سسٹم کی خرابی قرار دیتے ہوئے معذرت کی۔ایک اور صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب تھائی لینڈ اور مشرقی تیمور کا میچ بڑی حد تک خالی سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ اس کی وجہ یہ بنی کہ تھائی فٹبال شائقین نے ٹکٹ کے قواعد کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے میچ کا بائیکاٹ کیا۔ انہیں شناختی کارڈ سے رجسٹریشن اور نشستوں کی تقسیم پر اعتراض تھا۔ حکام نے کہا ہے کہ رجسٹریشن سیکورٹی وجوہات کے تحت لازمی ہے اور اسے جاری رکھا جائے گا۔گیمز کے آغاز سے قبل ہی پیدا ہونے والی ان مشکلات نے منتظمین کے لیے بڑے چیلنج کھڑے کر دیے ہیں، تاہم توقع کی جا رہی ہے کہ کھیلوں کے مقابلے خطے میں کھیلوں کے جذبے اور ہم آہنگی کو فروغ دیں گے۔