امریکا وینیزویلا کے خلاف “نفسیاتی جنگ” میں مصروف ہے،وزیرِ خارجہ ایوان خِل

کراکس۔10دسمبر (اے پی پی):وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان خِل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اپنی اقتصادی پابندیوں کی ناکامی کے بعد اب وینیزویلا اور خطے کے خلاف “نفسیاتی جنگ” شروع کر چکا ہے۔ تاس کے مطابق کراکس میں منعقدہ پیپلز اسمبلی فار پیس اینڈ سُوورنٹی آف آور امریکا کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکا اب نفسیاتی جنگ، عسکری نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہاہے …

کراکس۔10دسمبر (اے پی پی):وینیزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان خِل نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا اپنی اقتصادی پابندیوں کی ناکامی کے بعد اب وینیزویلا اور خطے کے خلاف “نفسیاتی جنگ” شروع کر چکا ہے۔ تاس کے مطابق کراکس میں منعقدہ پیپلز اسمبلی فار پیس اینڈ سُوورنٹی آف آور امریکا کے افتتاح سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ امریکا اب نفسیاتی جنگ، عسکری نفسیاتی جنگ کا سہارا لے رہاہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا اپنی نئی حکمتِ عملی کے تحت اقتصادی، عسکری اور خصوصاً میڈیا طاقت استعمال کرتے ہوئے وینیزویلا اور پورے خطے کے خلاف بے مثال نفسیاتی جنگ چلا رہا ہے۔

وزیرِ خارجہ کے مطابق، خطہ اس وقت اپنی تاریخ کے ایک بڑے چیلنج سے دوچار ہے، جبکہ اس اجتماع میں دنیا کے 50 ممالک سے 500 سے زائد مندوبین شریک ہو رہے ہیں۔یہ اجلاس نیشنل کونسل فار سوورنٹی اینڈ پیس آف وینیزویلا کی جانب سے منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں امریکی عسکری خطرات، خطے میں سرحد پار جرائم اور مونرو ڈاکٹرائن جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آئیں گے، جسے خِل کے مطابق واشنگٹن نے خطے پر “غلبہ” قائم کرنے کے لیے دوبارہ زندہ کیا ہے۔اگست کے اواخر سے امریکا نے کیریبین میں نمایاں فوجی موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے، جسے وہ منشیات کے خلاف کارروائی کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ وینیزویلا اس اقدام کو رجیم چینج کی کوشش قرار دے کر مسترد کر چکا ہے۔