تہران ۔10دسمبر (اے پی پی):ایران میں خاتون کو اپنے شوہر کے قتل کے سلسلے میں دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد لواحقین کی جانب سے معاف کرنے پر روک دیا گیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق بلوچ اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ خاتون کے پاس دستاویزات بھی موجود نہیں، اسے قتل کے جرم میں رواں ماہ پھانسی دی جانے والی تھی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق …
ایران، شوہر کو قتل کرنے والی خاتون کی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد روک دیا گیا
تہران ۔10دسمبر (اے پی پی):ایران میں خاتون کو اپنے شوہر کے قتل کے سلسلے میں دی جانے والی پھانسی کی سزا پر عملدرآمد لواحقین کی جانب سے معاف کرنے پر روک دیا گیا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق بلوچ اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والی 25 سالہ خاتون کے پاس دستاویزات بھی موجود نہیں، اسے قتل کے جرم میں رواں ماہ پھانسی دی جانے والی تھی۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے شعبے نےگزشتہ ہفتے ایران پر دباؤ ڈالا کہ خاتون کو پھانسی نہ دی جائے۔
اقوام متحدہ نے کہا کہ اس کو جبری شادی پر مجبور کیا گیا اور وہ اپنے شوہر کی طرف سے جبر و تشدد کا سامنا کرتی آئی تاہم اب مقتول کے لواحقین نے اسے معاف کر دیا ہے، جس کی روشنی میں عدالت نے اپنی میزان آن لائن ویب سائٹ پر سزا روکنے کا اعلان کیا۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہاکہ خاتون کو سزا میں یہ معافی مشروط طور پر ملی ہے، اس کے لیے خاتون کو دیت کی رقم ادا کرنا ہوگی جو کہ ایران میں نافذ العمل شریعہ قانون کا تقاضا ہے۔خاتون کے وکیل نے انسٹاگرام پر لکھا کہ دیت کی یہ رقم تقریبا ایک لاکھ یورو کے برابر ہے جسے اب تک بھگتی جانے والی سزائے قید کی وجہ سے کم کر کے 80 ہزار یورو کر دیا گیا ہے، تاہم ایرانی عدالت کی ویب سائٹ پر دیت کی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا ۔









