اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان بیلاروس پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا پہلا اجلاس کنوینر ایم این اے نتاشا دولتانہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ بیلاروس میں پاکستان کے سفیر محمد اعجاز نے ورچوئلی (آن لائن) اجلاس میں شرکت کی۔کنوینر نے اپنے افتتاحی کلمات میں شرکا کا خیرمقدم کیا اور بیلاروس کے ساتھ منظم اور مستقل روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ایک جامع …
پاکستان بیلاروس پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کا پہلا بریفنگ سیشن، دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مسلسل پارلیمانی رابطے کی ضرورت کو اجاگر کیا

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):پاکستان بیلاروس پارلیمانی فرینڈ شپ گروپ کا پہلا اجلاس کنوینر ایم این اے نتاشا دولتانہ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ بیلاروس میں پاکستان کے سفیر محمد اعجاز نے ورچوئلی (آن لائن) اجلاس میں شرکت کی۔کنوینر نے اپنے افتتاحی کلمات میں شرکا کا خیرمقدم کیا اور بیلاروس کے ساتھ منظم اور مستقل روابط برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے ایک جامع اور مربوط انداز کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے مسلسل پارلیمانی رابطے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔سفیر محمد اعجاز نے گروپ کو گزشتہ سال کے دوران پاکستان بیلاروس کے دوطرفہ تعلقات میں نمایاں بہتری کے بارے میں بریفنگ دی جس میں سفارتی رابطوں میں اضافہ اور تجارت، صنعت اور حکومت سے حکومت کی سطح پر تعاون کے شعبوں میں ٹھوس پیش رفت شامل ہے۔
سفیر نے محنت کشوں کی نقل و حرکت، علاقائی رابطے کے چیلنجز اور دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور تکنیکی تعاون کے بڑھتے ہوئے مواقع سے متعلق امور کی طرف بھی توجہ دلائی۔پارلیمانی دوستی گروپ کے اراکین نے تعلیم، تعلیمی تبادلوں، سکالرشپس، کاروباری سطح پر روابط (Business-to-Business linkages) اور زراعت، مشینری اور سمارٹ ٹیکنالوجیز میں تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اراکین نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان عوامی سطح پر رابطوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔
اپنے اختتامی کلمات میں کنوینر نے مستقل فالو اپ، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ بہتر ہم آہنگی اور فعال پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے بیلاروس کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے گروپ کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔اجلاس میں پاکستان بیلاروس پارلیمانی دوستی گروپ کے اراکین نے شرکت کی جن میں محمد عثمان بادینی، کرن عمران ڈار، علی جان مزاری، عبدالعلیم خان، نوابزادہ میر جمال خان رئیسانی، نوید عامر اور شمائلہ راناشامل تھیں۔








