اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے کینیڈا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان طارق علی خان نے بدھ کو ملاقات کی جس میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، اہم زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور جاری فائیٹو سینیٹری و تکنیکی تعاون کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر غذائی …
وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سے کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کی ملاقات، زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ اور تکنیکی تعاون کو وسعت دینے پر تبادلہ خیال

مزید خبریں
اسلام آباد۔10دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین سے کینیڈا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان طارق علی خان نے بدھ کو ملاقات کی جس میں پاکستان اور کینیڈا کے درمیان زرعی شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، اہم زرعی اجناس کی منڈیوں تک رسائی میں بہتری اور جاری فائیٹو سینیٹری و تکنیکی تعاون کو آگے بڑھانے پر تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر غذائی تحفظ نے ہائی کمشنر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی طرف سے کینیڈا کے ساتھ زرعی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ پائیدار زراعت، جدید فوڈ پروڈکشن سسٹمز اور سائنسی بنیادوں پر مشتمل ریگولیٹری ڈھانچے کے حوالے سے کینیڈا عالمی سطح پر ممتاز حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کینیڈا کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔
رانا تنویر حسین نے مارکیٹ رسائی کے مسائل کے حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا سے کینولا کی درآمد پاکستان کی زرعی ضروریات کا اہم حصہ ہے، لہٰذا اس سلسلے میں بروقت سرٹیفیکیشن اور رجسٹریشن کے عمل کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان اپنی زرعی برآمدات کو کینیڈین منڈیوں تک وسعت دینا چاہتا ہے جن میں آم، چاول، کینو، کھجوریں، حلال گوشت، جیلیٹن، بھیڑ کی آنتیں اور پروسیس شدہ مرغی کا گوشت شامل ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کینیڈا میں اپنی حلال مصنوعات کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور اس سلسلے میں حلال جیلیٹن، آنتوں اور ویلیو ایڈڈ پولٹری مصنوعات کے لیے سی ایف آئی اےکے سرٹیفیکیشن عمل میں تیزی کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر نے زرعی شعبے کی جدید کاری اور عالمی تقاضوں کی تکمیل کے لیے کینیڈین تکنیکی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو ایمبریو ٹرانسفر ٹیکنالوجی، امپورٹ رسک اسیسمنٹ کی تربیت اور جانوروں کی صحت سے متعلق جدید معلوماتی نظام کے قیام کے لیے معاونت درکار ہے۔ انہوں نے کینیڈا سے درخواست کی کہ پاکستان کو BSE negligible risk ڈوزیئر کی تکمیل اور ایف ایم ڈی کنٹرول پروگرام کے فروغ میں بھی مدد فراہم کی جائے تاکہ پاکستان کو عالمی منڈیوں میں بہتر رسائی مل سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سائنسی بنیادوں پر تجارت کا حامی ہے اور فائیٹو سینیٹری انتظامات سے متعلق فیصلے میدان میں کیے گئے مستند جائزوں اور مضبوط رسک ایویلیوایشن پر مبنی ہونے چاہئیں۔ہائی کمشنر طارق علی خان نے پاکستان کے موقف کو سراہتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا زرعی پیداوار اور فوڈ سیفٹی کے متعدد شعبوں میں تکنیکی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے وزیر کو بتایا کہ کینیڈا کے فیلڈ لیول، سٹوریج اور سپلائی چین پر محیط کیڑوں کے تدارک کا نظام ISPM-14 کے مطابق انتہائی مضبوط ہے اور کینیڈا چاہتا ہے کہ پاکستان اس نظام کا جائزہ لے کر مستقبل میں اناج کی برآمد کو سسٹمز اپروچ کے تحت قبول کرے۔ انہوں نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ کینیڈا ڈی پی پی کی چار رکنی تکنیکی ٹیم کے دورے کو مکمل طور پر سہولت فراہم کرے گا تاکہ وہ کینیڈا کے پیداواری علاقوں، گوداموں، ٹرانسپورٹ چین اور معائنے کے مراحل کا براہِ راست جائزہ لے سکیں۔ ہائی کمشنر نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کینولا، سویابین اور پام آئل کی پیداوار میں مزید اضافہ کر رہا ہے اور جی ایم او لائسنسنگ کے امور طے ہوتے ہی پاکستان کے لیے کینولا کی برآمد دوبارہ شروع کرنے کا خواہشمند ہے۔ہائی کمشنر نے پاکستان کی جانب سے دوطرفہ سیاسی مشاورت میں موثر شرکت کو سراہا اور اس عمل کو ادارہ جاتی سطح پر مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے وزیر کو آگاہ کیا کہ کینیڈا اپریل 2026ء میں ہونے والی کینیڈا کرپس کنونشن میں وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے افسران کو مدعو کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور پاکستان ایڈیبل آئل کانفرنس میں شرکت کے لیے بھی پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا پاکستان کو خطے کا اہم ترین شراکت دار سمجھتا ہے اور پاکستان کے غذائی تحفظ، زرعی نظام کی جدید کاری اور تجارتی مسابقت میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان کینیڈا کے ساتھ زرعی تعاون کو وسیع کرنے میں سنجیدہ ہے اور دونوں ممالک ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو ایڈیشن، مویشیوں کی بہتری، ہائبرڈ بیجوں کی تحقیق اور زرعی مشینری کی تیاری میں گہرے اشتراک سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے تکنیکی مشاورت، ریگولیٹری ہم آہنگی اور مارکیٹ رسائی کے معاملات پر پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کی تجویز دی۔ ملاقات مثبت انداز میں اختتام پذیر ہوئی جس میں دونوں فریقین نے پاکستان اور کینیڈا کے درمیان مستقبل پر مبنی، باہمی فائدے پر مشتمل زرعی شراکت داری کو آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔








