افغانستان شدید انسانی بحران ، 2026 میں 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہوگی، اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت ایک انتہائی سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے جہاں 2026 میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہوگی۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں، مسلسل معاشی جھٹکوں، طویل جنگ کے اثرات اور …

اقوام متحدہ ۔11دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ افغانستان اس وقت ایک انتہائی سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے جہاں 2026 میں تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ افراد کو امداد کی ضرورت ہوگی۔شنہوا کے مطابق سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئےانہوں نے بتایا کہ خواتین اور بچیوں پر عائد پابندیوں، مسلسل معاشی جھٹکوں، طویل جنگ کے اثرات اور اس سال امدادی فنڈز میں بڑے پیمانے پر کمی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ٹام فلیچر کے مطابق بھوک کا شکار افغان شہریوں کی تعداد 1 کروڑ 74 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، جبکہ ملک بھر میں بنیادی خدمات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

2025 میں 26 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی واپسی نے بحران کو اور بڑھا دیا ہے، جن میں 60 فیصد خواتین اور بچے شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان میں 25 لاکھ افغانوں کی قانونی حیثیت ختم ہونے کے بعد مزید بڑے پیمانے پر واپسی کی صورت میں حالات نہایت تشویشناک ہو سکتے ہیں۔ فنڈنگ کی کمی کے باعث غذائیت اور صحت کے سیکڑوں مراکز بند ہوگئے ہیں، جس سے لاکھوں افراد بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ٹام فلیچر کا کہنا تھا کہ اگر امدادی وسائل میں فوری اضافہ نہ ہوا تو 2026 میں زندگی بچانے والی امداد میں مزید کمی کا خطرہ ہے، جبکہ ملک میں بھوک، صحت کے بحران اور تحفظ کے خدشات پہلے ہی اپنے عروج پر ہیں۔

مزید خبریں