یوکرینی فوج کا روسی تیل بردار جہاز کو ڈرون حملے کے ذریعے سمندر میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ

کیف۔11دسمبر (اے پی پی):یوکرینی فوج نے ڈرون حملے کے ذریعے روس کے شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھنے والے تیل بردار بحری کو سمندر میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، یہ جہاز یوکرین کے خصوصی اقتصادی زون سے گزر کر روسی بندرگاہ نووروسک جا رہا تھا ۔رائٹرز کے مطابق روسی بحری جہازوں پر دو ہفتوں میں یوکرین کا یہ تیسرا ڈورن حملہ ہے۔ سکیورٹی سروس آف یوکرین کے مطابق …

کیف۔11دسمبر (اے پی پی):یوکرینی فوج نے ڈرون حملے کے ذریعے روس کے شیڈو فلیٹ سے تعلق رکھنے والے تیل بردار بحری کو سمندر میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے ، یہ جہاز یوکرین کے خصوصی اقتصادی زون سے گزر کر روسی بندرگاہ نووروسک جا رہا تھا ۔رائٹرز کے مطابق روسی بحری جہازوں پر دو ہفتوں میں یوکرین کا یہ تیسرا ڈورن حملہ ہے۔ سکیورٹی سروس آف یوکرین کے مطابق روس کا تیل بردار بحری جہاز ڈاشان اپنے ٹرانسپونڈرز کو بند کر کے زیادہ رفتار سے سفر کر رہا تھا کہ ڈرون حملے کے نتیجہ میں اس میں زور دار دھماکا ہوا جس سے جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے اس واقعے میں ممکنہ جانی نقصان کا کوئی ذکر نہیں کیا۔یوکرینی اہلکار کی طرف سے فراہم کردہ وڈیو فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ بحریہ کے ڈرون کو تیز رفتاری سے ٹینکر کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جس کے قریب پہنچتے ہی آئل ٹینکر میں زور دار دھماکے ہوتے ہیں۔رائٹرز نے وڈیو میں ڈیک، کرینز اور ڈھانچے کا فائل امیجری کے ساتھ موازنہ کر کے اس بات کی تصدیق کر سکے کہ یہ روس کا ڈاشان آئل ٹینکر تھا۔ مقام اور تاریخ کی تصدیق ایس بی یو سورس کے اکاؤنٹ اور بحری جہازوں و ٹریک کرنے والے ڈیٹا سے ہوئی ۔ قبل ازیں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے گزشتہ ہفتے اپنے آئل ٹینکرز پر یوکرینی حملوں کے جواب میں بحیرہ اسود تک یوکرین کی رسائی کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی ۔