پینٹاگون نے امریکا کی نئی ہیمی سفیئر کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا

واشنگٹن۔11دسمبر (اے پی پی):پینٹاگون نے امریکا کی نئی مغربی نصف کرہ (ویسٹ ۔ہیم کام )کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے، جو قومی سلامتی کی تازہ حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ شنہوا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے بتایا کہ نئی چار ستارہ کمانڈ نے امریکی آرمی فورسز کمانڈ، آرمی نارتھ اور آرمی ساؤتھ کو یکجا کرتے ہوئے ایک متحد …

واشنگٹن۔11دسمبر (اے پی پی):پینٹاگون نے امریکا کی نئی مغربی نصف کرہ (ویسٹ ۔ہیم کام )کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے، جو قومی سلامتی کی تازہ حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد فوجی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ شنہوا کے مطابق امریکی محکمہ دفاع نے بتایا کہ نئی چار ستارہ کمانڈ نے امریکی آرمی فورسز کمانڈ، آرمی نارتھ اور آرمی ساؤتھ کو یکجا کرتے ہوئے ایک متحد آپریشنل ہیڈکوارٹر کی شکل اختیار کر لی ہے۔ اس سلسلے میں 5 دسمبر کو فورٹ بریگ، نارتھ کیرولائنا میں خصوصی افتتاحی تقریب منعقد کی گئی۔

جنرل جوزف اے رائن، جو اس سے قبل آرمی کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف برائے آپریشنز، پلانز اور ٹریننگ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں، کو نئی کمان کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ محکمہ دفاع کے مطابق یہ کمانڈ امریکا کی شمالی اور جنوبی کمانڈز کی معاونت میں تمام فوجی منصوبہ بندی، پوزیشن، آپریشنز اور طاقت کی نقل و حرکت کی نگرانی کرے گی، تاکہ قومی دفاعی ترجیحات کے مطابق علاقائی سطح پر مکمل جنگی تیاری برقرار رکھی جا سکے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری 2026 تک ویسٹ ہیم کام ابتدائی آپریشنل صلاحیت حاصل کر لے گی، جس کے بعد آرمی نارتھ اور آرمی ساؤتھ کو بتدریج ختم کر دیا جائے گا۔

توقع ہے کہ اگر تمام تقاضے مکمل ہو گئے تو گرمیوں 2026 تک نئی کمانڈ مکمل آپریشنل صلاحیت حاصل کر لے گی۔وہائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں کہا گیا ہے کہ مغربی نصف کرے میں امریکی برتری امریکا کی سلامتی اور خوش حالی کی بنیادی شرط ہے، جو ضرورت پڑنے پر امریکا کو علاقائی سطح پر مضبوط پوزیشن کے ساتھ کارروائی کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ یہ دستاویز وسیع پیمانے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت کی خارجہ پالیسی کا باقاعدہ اظہار قرار دی جا رہی ہے۔