مذاکرات جاری رہنے کے دوران برازیلی مصنوعات پر عائد اضافی 40 فیصد ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا ،برازیلی صدر کا امریکی صدر سے مطالبہ

برازیلیا۔13دسمبر (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ دو طرفہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران برازیلی مصنوعات پر عائد اضافی 40 فیصد ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا جائے۔شنہو ا کے مطابق برازیل کے نائب صدر اور وزیر برائے ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات جیرالڈو الکمن نے کہا کہ صدر نے درخواست کی ہے کہ جب تک …

برازیلیا۔13دسمبر (اے پی پی):برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کی ہے کہ دو طرفہ مذاکرات جاری رہنے کے دوران برازیلی مصنوعات پر عائد اضافی 40 فیصد ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا جائے۔شنہو ا کے مطابق برازیل کے نائب صدر اور وزیر برائے ترقی، صنعت، تجارت اور خدمات جیرالڈو الکمن نے کہا کہ صدر نے درخواست کی ہے کہ جب تک مذاکرات جاری ہیں، ٹیرف پر عمل درآمد روک دیا جائے۔ ہمیں انتظار کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ابتدائی ٹیرف کے دائرہ کار میں کمی کے فیصلے کے بعد برازیل اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں ’’مسلسل پیش رفت‘‘ ہو رہی ہے۔ ابتدائی طور پر یہ ٹیرف تقریباً 4 ہزار مصنوعات پر لاگو تھا، جن پر مجموعی طور پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تھا۔انہوں نے یاد دلایا کہ جب صدر ٹرمپ نے اس اقدام کے نفاذ کے لیے ابتدائی ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا تو برازیل کی 37 فیصد برآمدات 10 فیصد کے علاوہ اضافی 40 فیصد ٹیرف کی زد میں تھیں۔

جیرالڈو الکمن کے مطابق اس کے بعد یہ شرح کم ہو کر 22 فیصد رہ گئی ہے، جو کہ ابتدائی طور پر ٹیرف کے دائرے میں آنے والی مصنوعات میں تقریباً ایک تہائی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اب برازیل کی 51 فیصد برآمدات یا تو صفر یا 10 فیصد ٹیرف کے تحت آتی ہیں، جبکہ 27 فیصد برآمدات سیکشن 232 کے تحت ہیں، جو دیگر مسابقتی ممالک پر لاگو ٹیرف کے قریب تر ہے۔