ریاض ۔15دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب میں 25 دسمبر سے شروع ہونے والا شاہ عبدالعزیز بازمیلہ اپنی تاریخ اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے سعودی عرب کے اعتماد اور یقین کا اظہار ہے۔ سعودی عرب میں منعقد ہونے والا دنیا کا یہ سب سے بڑا میلہ سعودی عرب کی قومی شناخت کا اپنی ثقافت کے ذریعے اظہار بھی ہے۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں بعض ثقافتی تجربات …
کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹول 25 دسمبر سے شروع ہو گا

مزید خبریں
ریاض ۔15دسمبر (اے پی پی):سعودی عرب میں 25 دسمبر سے شروع ہونے والا شاہ عبدالعزیز بازمیلہ اپنی تاریخ اور اسے دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کے سعودی عرب کے اعتماد اور یقین کا اظہار ہے۔ سعودی عرب میں منعقد ہونے والا دنیا کا یہ سب سے بڑا میلہ سعودی عرب کی قومی شناخت کا اپنی ثقافت کے ذریعے اظہار بھی ہے۔ آج کی تیز رفتار دنیا میں بعض ثقافتی تجربات وقت کی رفتار کے برعکس انتہائی خاموشی کے ساتھ وقوع پذیر ہو تے ہیں۔ وہ بڑے پیمانے پر تشہیر کے محتاج نہیں ہوتے اس کے باوجود وہ اپنا دائمی تاثر چھوڑ جاتے ہیں۔
کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹول کا شمار بھی ایسے ہی تجربات میں ہوتا ہے جن کو محض دیکھا نہیں جاتا بلکہ ان میں بھرپور شرکت کی جاتی ہے۔ باز کی پرورش، تربیت اور اس کے ذریعے شکار سعودی لوگوں کے شعور میں گہری جڑیں رکھتا ہے۔ یہ انسان اور فطرت کے درمیان اس پائیدار تعلق کی بھی عکاسی کرتا ہے جس کی نشو و نما صبر ، نظم و ضبط اور احترام جیسے اصولوں پر ہوتی ہے۔ کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹول جیسا بڑا میلہ اسی تعلق کو مرکز نگاہ بناتا ہے جو سعودی لوگوں کی نئی نسل اور دنیا کو اپنے ورثے سے جڑے رہنے کا موقع فراہم کرتا ہے جو اس کی حقیقی روح ہے۔
اس میلے کی خاص بات اس کا اپنی اس روایت کو ایک زی روح چیز کے طورپر پیش کرنے کا تصور ہے جو مزید نشو و نما اور احیا کی اہلیت رکھتا ہے۔ باز کو سعودی شناخت سے متعلق بیانیئے کے ایک وسیع تر حصے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جس کا تعلق سعودی عرب کی سرزمین اور قدرتی ماحول کی سوجھ بوجھ سے ہے۔ میلے کے دوران باز کی تربیت اور اس کے ذریعے شکار ایک عالمگیر زبان کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔قومیتوں اور لہجوں کے فرق ان پرندوں کے لئے ایک مشترکہ تحسین اور اس احترام میں بدل جاتے ہیں جس کی یہ علامت ہیں ۔
اس پس منظر میں قدیمی ورثہ ایک ثقافتی سرگرمی بننے سے پہلے ہی لوگوں کے درمیان ایک پل کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس میلے کی ایک خصوصیت اس میں نوجوانوں کی بھرپور شرکت بھی ہے جو اس شعور میں اضافے کی علامت ہے کہ کسی بھی ورثہ کے زندہ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ وہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔میلے میں شرکت کرنے والے بچے یہاں ذمہ داری کا درس پاتے ہیں، وابستگی کی قدر سے آشنا ہوتے ہیں اور ان میں فطرت کے ساتھ ایک گہرا تعلق پیدا ہو تا ہے۔
دراصل کنگ عبدالعزیز فالکنری فیسٹول سعودی عرب کی اک مختلف تصویر پیش کرتا ہے، ایک ایسی تصویر جس میں بڑے بڑے اعلانات کی بجائے حقیقی تجربے اور اقدامات کو لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔اس سے ایک ایسی قوم کی عکاسی ہوتی ہے جسے نہ صرف اپنی تاریخ پر اعتماد ہے بلکہ وہ اسے کسی مبالغہ آرائی اور بناوٹ کے بغیر دوسروں کے ساتھ شیئر کرنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔ یہ میلہ اپنی شناخت پر غور کے ساتھ ساتھ اس بات کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ کس طرح ثقافت ہمارے ماضی اور مستقبل کو باہم مربوط کرتی ہے۔
باز کی پرسکون، طاقتور اور متوازن پرواز اس سادہ لیکن ٹھوس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ کچھ اقدار کو احیا کی نہیں، صرف سوچ سمجھ کر دوسروں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔سعودی فالکن کلب 25 دسمبر سے شروع ہونے والے میلے کے ذریعے اپنے اسی وژن پرعمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتا ہے۔








