روس کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی دھمکی ریکارڈ نہیں ہوئی، آئی اے ای اے سربراہ

میڈرڈ۔15دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی دھمکی ریکارڈ پر موجود نہیں۔ تاس کے مطابق ہسپانوی اخبار ایل پائس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب رافیل گروسی سے روسی قیادت کی جانب سے جوہری حملے کی مبینہ دھمکیوں کے بارے میں سوال …

میڈرڈ۔15دسمبر (اے پی پی):بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی کوئی دھمکی ریکارڈ پر موجود نہیں۔ تاس کے مطابق ہسپانوی اخبار ایل پائس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب رافیل گروسی سے روسی قیادت کی جانب سے جوہری حملے کی مبینہ دھمکیوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے واضح کیا، “میں نے ایسا کوئی بیان ریکارڈ نہیں کیا جس میں جوہری ہتھیاروں سے حملے کی دھمکی دی گئی ہو۔ان کے مطابق انہوں نے صرف یہ بیان دیکھا ہے کہ جوہری ہتھیار اس صورت میں موجود ہیں جب کسی ملک کو وجودی خطرہ لاحق ہو۔

انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف تقریباً تمام جوہری طاقتوں کےجوہری ہتھیاروں کے استعمال کے نظریے سے مطابقت رکھتا ہے۔تاہم آئی اے ای اے کے سربراہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ عالمی سطح پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایک “پوشیدہ خطرہ” بدستور موجود ہے۔رافیل گروسی نے اس موقع پر امریکا اور روس کے درمیان اسٹریٹجک جوہری ہتھیاروں میں کمی اور ان کی حد بندی سے متعلق معاہدے، نیو اسٹارٹ، کا بھی ذکر کیا جو فروری میں ختم ہو رہا ہے۔

اس سوال پر کہ آیا اس معاہدے کی مدت ختم ہونا ایک دور کے خاتمے کے مترادف ہے، انہوں نے کہا کہ الاسکا میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والے سربراہی اجلاس میں اس معاملے پر ابتدائی بات چیت ہوئی تھی۔ انہوں نے اس شعبے میں پیش رفت کی امید کا اظہار بھی کیا۔رافیل گروسی نے مزید کہا کہ زیپوریزیا نیوکلیئر پاور پلانٹ کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم اور نہایت خطرناک ہے، جس پر عالمی برادری کو سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔