اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):ویمن اِن گورنمنٹ ٹیک 2025 ءکی رپورٹ میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ کو عوامی خدمات میں خواتین قیادت کی ایک نمایاں اور مؤثر مثال قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شزہ فاطمہ خواجہ جدید ٹیکنالوجی کو صرف سسٹمز تک محدود نہیں سمجھتیں بلکہ اسے مؤثر، شفاف اور عوام دوست خدمات کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ تصور کرتی …
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ عوامی خدمات میں خواتین قیادت کی ایک نمایاں اور مؤثر مثال قرار

مزید خبریں
اسلام آباد۔15دسمبر (اے پی پی):ویمن اِن گورنمنٹ ٹیک 2025 ءکی رپورٹ میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ کو عوامی خدمات میں خواتین قیادت کی ایک نمایاں اور مؤثر مثال قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شزہ فاطمہ خواجہ جدید ٹیکنالوجی کو صرف سسٹمز تک محدود نہیں سمجھتیں بلکہ اسے مؤثر، شفاف اور عوام دوست خدمات کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ تصور کرتی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ شمولیتی ڈیجیٹل گورننس کی علمبردار ہیں اور وہ پالیسی سازی اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا ء کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کی قیادت میں ڈیجیٹل اصلاحات کا مقصد عام شہری بالخصوص خواتین اور محروم طبقات کو حکومتی خدمات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔ ویمن اِن گورنمنٹ ٹیک 2025 ءکی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ڈیجیٹل قیادت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے جس میں شزہ فاطمہ خواجہ کا کردار نمایاں ہے۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وفاقی وزیر کی شمولیت، جدت پر مبنی سوچ اور عوامی خدمت کا وژن نہ صرف خواتین کے لئے ایک مثبت مثال ہے بلکہ پاکستان کے ڈیجیٹل مستقبل کے لئے بھی حوصلہ افزا ء ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شزہ فاطمہ خواجہ کی قیادت شفافیت، شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ذریعے عوامی خدمات کو بہتر بنانے کی ایک کامیاب مثال بن کر سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خواتین لیڈرز نہ صرف ٹیکنالوجی اپنا رہی ہیں بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی کے طریقے کو بنیادی طور پر تبدیل کر رہی ہیں،
وہ شمولیت کے لئے نئے معیارات قائم کر رہی ہیں اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے پالیسی اور عملدرآمد کے درمیان خلا ء کو کم کر رہی ہیں۔وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے اس بات پر زور دیا کہ "سب سے مشکل سے رسائی والے 20 فیصد” کو شامل کرنااور ان کے لئے کام کرنے والی خدمات بنانا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس سال کی رپورٹ 29ممالک میں پھیلی 100خواتین جدت کاروں (انویٹرز) کی اثر انگیز کہانیوں کو خاص طور پر نمایاں کرتی ہے جو گزشتہ سال کے 24 ممالک سے زیادہ ہے۔








