علما و مشائخ نے ہندوستان میں اقلیتوں پر مظالم اور آسٹریلیا میں دہشت گردی کے خلاف یوم مذمت منانے کا اعلان کر دیا

لاہور۔16دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور مذاہب کے قائدین نے سانحہ اے پی ایس کی برسی کے موقع پر معصوم بچوں کے ورثا سے اظہار تعزیت کیا اور انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل …

لاہور۔16دسمبر (اے پی پی):چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی زیر صدارت جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں ہونے والے اجلاس میں مختلف مکاتب فکر کے علما و مشائخ اور مذاہب کے قائدین نے سانحہ اے پی ایس کی برسی کے موقع پر معصوم بچوں کے ورثا سے اظہار تعزیت کیا اور انتہا پسندی، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد کے خاتمے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کا اعلان کیا۔

اجلاس میں مسلم علما و مشائخ نے اعلان کیا کہ جمعہ المبارک کو ہندوستان میں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں پر ہونے والے مظالم اور آسٹریلیا میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف یوم مذمت منایا جائے گا۔ اجلاس میں فادر جیمز چنن، ڈاکٹر مجید ایبل، سردار گیان سنگھ، مولانا عاصم مخدوم، مولانا اسداللہ فاروق، مولانا اسلم صدیقی، پیر خلیل احمد، ڈاکٹر بدر صیفی، علامہ طاہر الحسن، حافظ مقبول احمد، مولانا محمد اشفاق پتافی، مفتی عمر فاروق، قاری عبدالحکیم اطہر، مولانا مبشر رحیمی، مولانا محمد ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق، صوفی اسلام الدین عثمانی، قاری فیصل امین اور دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تمام قائدین نے سانحہ اے پی ایس کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا اور دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے ریاست پاکستان، افواج پاکستان اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ تعاون کا یقین دلایا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہندوستان عالمی دہشت گردی کا مرکز بن چکا ہے اور وہاں اقلیتوں کے ساتھ مظالم جاری ہیں، جس کی واضح مثال بہار کے وزیر اعلیٰ کی طرف سے ایک مسلمان بچی کا حجاب اتارنا اور اس کے ساتھ بدتمیزی کرنا ہے۔

قائدین نے کہا کہ آسٹریلیا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کی بھی پشت پناہی ہندوستان سے جڑی ہو سکتی ہے اور انہوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی اداروں بشمول اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں مختلف مذاہب کے قائدین نے اس بات پر زور دیا کہ تمام مذاہب امن، محبت اور رواداری کا درس دیتے ہیں اور اسلام بھی امن، سلامتی اور اعتدال کا پیغام دیتا ہے۔