اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید خان احمدخان نے کہاہے کہ کمیشن کی مسلسل اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں صنفی تفاوت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، الیکشن کمیشن روزانہ اوسطاً 7,599 نئے ووٹرز انتخابی فہرستوں میں شامل کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بات قوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یواین ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق، وزارت …
مسلسل اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں صنفی تفاوت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ، روزانہ اوسطاً 7,599 نئے ووٹرز انتخابی فہرستوں میں شامل ہو رہے ہیں، سیکرٹری الیکشن کمیشن
اسلام آباد۔18دسمبر (اے پی پی):سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان عمر حمید خان احمدخان نے کہاہے کہ کمیشن کی مسلسل اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں صنفی تفاوت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے ، الیکشن کمیشن روزانہ اوسطاً 7,599 نئے ووٹرز انتخابی فہرستوں میں شامل کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بات قوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام یواین ڈی پی کے ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق، وزارت اقتصادی امور کے جوائنٹ سیکریٹری محمود خان، پاکستان انسٹیٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عاصم خان گورایا، یورپی یونین کے گورننس و ہیومن کیپیٹل ڈویلپمنٹ کے برطانوی ہائی کمیشن اسلام آباد کے ڈویلپمنٹ ڈائریکٹر سیم والڈک سمیت دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں پاکستان لیجسلیٹو، الیکٹورل، ڈیجیٹل گورننس اینڈ ایمپاورمنٹ منصوبے کے تحت پر اجیکٹ بورڈ ریویو اجلاس میں کہی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ اجلاس میں گزشتہ برس کے دوران مختلف منصوبہ جاتی اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ سال 2026ء کے لیے مجوزہ حکمت عملی اور ترجیحات پر بھی غور کیا گیا۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ کمیشن کی مسلسل اور مربوط کاوشوں کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں میں صنفی تفاوت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو 2018ء میں 11.8 فیصد تھی اور اب 2025ء میں کم ہو کر 7.1 فیصد رہ گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ پیش رفت خواتین کے لیے قومی شناختی کارڈ اور ووٹر رجسٹریشن کی چار مرحلہ وار مہمات کے باعث ممکن ہوئی ہے جبکہ اس وقت پانچویں مرحلے کے تحت ملک کے 62 اضلاع میں مہم جاری ہے جہاں صنفی فرق 10 فیصد سے زائد ہے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں خواتین ووٹرز کی رجسٹریشن کی شرح مردوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ رہی جس کے نتیجے میں خواتین ووٹرز کی تعداد میں 27 فیصد جبکہ مرد ووٹرز میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ فافن کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ الیکشن کمیشن روزانہ اوسطاً 7,599 نئے ووٹرز انتخابی فہرستوں میں شامل کر رہا ہے جن میں خواتین کی تعداد مردوں سے کہیں زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کی شمولیت پر مبنی ووٹر رجسٹریشن مہم کے پانچویں مرحلے کی معاونت کے لیے یو این ڈی پی جنوری 2026ء سے 15 اضلاع میں سرگرمیوں کا آغاز کرے گا جس کے ذریعے 25 ہزار خواتین کے قومی شناختی کارڈز کے اندراج میں سہولت فراہم کی جائے گی۔سیکرٹری نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد جینڈر اینڈ سوشل انکلوژن فریم ورک متعارف کرایا ہے جس کے تحت الیکشن کمیشن خطے کے اولین انتخابی اداروں میں شامل ہو گیا ہے۔ یو این ڈی پی کی جانب سے اس مقصد کے لیے قانونی و تکنیکی ماہر کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ یو این ڈی پی کے تعاون سے جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم کیا گیا ہے جہاں کمزور طبقات کے لیے جینڈر ڈیسک بھی فعال ہے۔
سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ عوامی آگاہی، جعلی خبروں کی روک تھام اور غلط معلومات کے تدارک کے لیے سوشل میڈیا پر موثر موجودگی کو یقینی بنایا گیا ہے جبکہ معذور افراد کے لیے بریل ، تھری ڈی مواد اور اشاروں کی زبان میں معلوماتی ویڈیوز بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انتخابی عمل میں مصنوعی ذہانت کے کردار پر بھی ایک اہم منصوبے کا آغاز کیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کے لیے ملک بھر میں ہزاروں آگاہی سیشنز منعقد کیے گئے جس کے نتیجے میں 2024ء کے عام انتخابات میں نوجوان ووٹرز کا ٹرن آئوٹ نمایاں طور پر بڑھا۔
اجلاس کے اختتام پر یو این ڈی پی کے ریذیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر سیموئیل رزق نے پلیج منصوبے کی سال 2025ء کی رپورٹ پیش کی اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر سیموئیل رزق نے کہا کہ یو این ڈی پی الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ اشتراک کو انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یو این ڈی پی الیکشن کمیشن کے ساتھ تکنیکی معاونت کو پلیج منصوبے کے تحت 2025ء سے 2029ء تک جاری رکھے گا۔ آخر میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے یواین ڈی پی اور دیگر شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جامع انتخابی نظام کے قیام کے لیے تعاون کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔









