اسلام آباد۔ 20 دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی نظام میں مالیاتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں مالیاتی امور کی ڈیجیٹلائزیشن ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، اس حوالے سے ہر ممکن ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ …
سپریم کورٹ میں مالیاتی امور کی ڈیجیٹلائزیشن اولین ترجیح ہے،چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

مزید خبریں
اسلام آباد۔ 20 دسمبر (اے پی پی):چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی نظام میں مالیاتی نظم و نسق کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں مالیاتی امور کی ڈیجیٹلائزیشن ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے ، اس حوالے سے ہر ممکن ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کامران رشید سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں اے جی پی آر نے چیف جسٹس کو سرکاری ادائیگیوں کے ڈیجیٹل نظام سے متعلق اقدامات بارے بریفنگ میں بتایا کہ سپریم کورٹ میں آن لائن بلنگ سلوشن کے نفاذ کا آغاز کر دیا گیا ہے.
جو آئندہ پندرہ روز میں فعال ہو جائے گا، اس نظام کے ذریعے اخراجات کی ادائیگیوں میں تیزی آئے گی جبکہ دستی بلوں اور چیکس کا خاتمہ ہو جائے گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے متعلقہ شعبوں کو اس کے بروقت اور مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ چیف جسٹس صاحبان کی منظوری سے یہ ڈیجیٹل نظام ہائی کورٹس تک بھی توسیع دی جائے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ مالی وصولیوں کے نظام کو بھی فِن ٹیک سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تاکہ سائلین اور دیگر متعلقہ فریق عدالتی فیس، سکیورٹیز اور دیگر رقوم ڈیجیٹل ذرائع سے جمع کرا سکیں۔ انہوں نے اس ضمن میں سٹیٹ بینک کے ساتھ قریبی رابطے کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ مالی لین دین محفوظ، معیاری اور شفاف بنایا جا سکے۔ملاقات کے موقع پر اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو نے چیف جسٹس آف پاکستان کو یادگاری شیلڈ بھی پیش کی۔








