ایران کے ساتھ با مقصد براہ راست مذاکرات کے لیے اب بھی تیار ہیں، امریکا

اقوام متحدہ ۔24دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی مشیر اور وزارتِ خارجہ کی سابق ترجمان مورگن اورٹاگس نے دونوں ملکوں کے سفارت کاروں کے درمیان ہونے والے ایک نادر اعلانیہ تبادلے میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ با ضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب تہران براہِ راست اور با مقصد مذاکرات کے لیے …

اقوام متحدہ ۔24دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی مشیر اور وزارتِ خارجہ کی سابق ترجمان مورگن اورٹاگس نے دونوں ملکوں کے سفارت کاروں کے درمیان ہونے والے ایک نادر اعلانیہ تبادلے میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکا اب بھی ایران کے ساتھ با ضابطہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن صرف اسی صورت میں جب تہران براہِ راست اور با مقصد مذاکرات کے لیے آمادہ ہو۔

العربیہ کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ امریکا عوامی سطح پر (میڈیا کے سامنے) مذاکرات نہیں کرے گا۔اورٹاگس نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے صدارتی ادوار کے دوران تہران کی طرف "سفارت کاری کا ہاتھ” بڑھایا ہے۔دوسری جانب اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک اصولوں پر مبنی سفارت کاری اور حقیقی مذاکرات کے لیے مکمل طور پر پُر عزم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ فرانس، برطانیہ اور امریکا پر منحصر ہے کہ وہ اپنا راستہ تبدیل کریں اور اعتماد کی بحالی کے لیے ٹھوس اور قابل بھروسہ اقدامات اٹھائیں۔