سپریم کورٹ،منشیات کے الزام میں گرفتار ملزم کی درخواست ضمانت مسترد

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں منشیات کے الزام میں گرفتار ملزم ولید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی۔کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا …

اسلام آباد۔24دسمبر (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان میں منشیات کے الزام میں گرفتار ملزم ولید کی درخواست ضمانت پر سماعت ہوئی جس کے دوران عدالت نے درخواست ضمانت مسترد کر دی۔ درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کی گئی۔کیس کی سماعت بدھ کو جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم رواں سال ستمبر میں گرفتار ہوا اور اتنی جلدی سپریم کورٹ آ گیا؟۔

انہوں نے کہا کہ اگر مقدمے میں پولیس کی کوئی بدنیتی ہے تو ملزم اس کا واضح طور پر تعین کرے۔وکیل ملزم نے موقف اختیار کیا کہ گھریلو جھگڑے کے دوران پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس کے خلاف منشیات کا مقدمہ بنا دیا۔ اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے سوال اٹھایا کہ گھریلو جھگڑے میں پولیس والے کیسے پہنچ گئے؟سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ گھریلو جھگڑا اتنا خطرناک کیسے ہو گیا کہ اس میں ہیروئن ڈال دی گئی؟ جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ گھریلو جھگڑے میں ہزار گرام ہیروئن کون ڈالتا ہے؟

عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم کے خلاف ایک ہزار گرام ہیروئن اور 120 گرام آئس برآمدگی کا مقدمہ درج ہے۔ وکیلِ ملزم نے مزید کہا کہ واقعے کا کوئی نجی گواہ موجود نہیں اور گرفتاری کے وقت ویڈیو بھی نہیں بنائی گئی۔اس موقع پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ایسی باتیں ٹرائل کے دوران کی جاتی ہیں، ضمانت کی سماعت میں نہیں۔عدالت نے پولیس کو آئندہ سماعت سے قبل چالان جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ ملزم کے خلاف ٹرائل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔واضح رہے کہ ملزم ولید کے خلاف اسلام آباد پولیس نے رواں سال ستمبر میں مقدمہ درج کیا تھا۔

مزید خبریں