وائٹ ہاؤس کا امریکی فوج کو وینزویلا کے تیل کی ’’قرنطینہ‘‘ پر توجہ دینے کا حکم

واشنگٹن ۔25دسمبر (اے پی پی):وائٹ ہاؤس نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ کم از کم دو ماہ تک وینزویلا کے تیل کے خلاف ’’قرنطینہ‘‘ نافذ کرنے پر تقریباً مکمل توجہ مرکوز رکھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔عہدیدار کے مطابق اگرچہ فوجی آپشنز موجود ہیں، تاہم فی الحال وائٹ ہاؤس کی ترجیح اقتصادی دباؤ بڑھانا اور پابندیوں کے …

واشنگٹن ۔25دسمبر (اے پی پی):وائٹ ہاؤس نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئندہ کم از کم دو ماہ تک وینزویلا کے تیل کے خلاف ’’قرنطینہ‘‘ نافذ کرنے پر تقریباً مکمل توجہ مرکوز رکھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرزکے مطابق ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔عہدیدار کے مطابق اگرچہ فوجی آپشنز موجود ہیں، تاہم فی الحال وائٹ ہاؤس کی ترجیح اقتصادی دباؤ بڑھانا اور پابندیوں کے نفاذ کے ذریعے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ اقدامات نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر شدید دباؤ ڈالا ہے اور یہ تاثر ہے کہ اگر جنوری کے آخر تک امریکہ کو خاطر خواہ رعایتیں نہ دی گئیں تو وینزویلا کو سنگین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے روکے گئے تیسرے آئل ٹینکر بیلا ون نے وینزویلا جانے کے بجائے اپنا راستہ بدل لیا اور بحرِ اوقیانوس کی جانب واپس چلا گیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا آنے جانے والے تمام پابندی زدہ ٹینکروں پر ’’مکمل اور جامع ناکہ بندی‘‘ کا حکم دیا تھا اور مادورو حکومت کو امریکہ کی جانب سے غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا۔

دوسری جانب وینزویلا نے واشنگٹن پر حکومت کی تبدیلی اور لاطینی امریکہ میں فوجی توسیع کے عزائم کا الزام عائد کرتے ہوئے آئل ٹینکروں کی روک تھام کو ’’قزاقی‘‘ قرار دیا ہے۔

مزید خبریں