یمن میں کشیدگی کے سیاسی حل کی کوششیں تیز، برطانیہ کی یمنی حکومت کی حمایت

لندن ۔27دسمبر (اے پی پی):یمن میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں برطانیہ نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔شنہوا کے مطابق برطانوی حکومت میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے وزیرِ مملکت ہامش فالکنر نے کہا ہے کہ برطانیہ مشرقی یمن کی …

لندن ۔27دسمبر (اے پی پی):یمن میں بڑھتے ہوئے عسکری تناؤ کے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جہاں برطانیہ نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔شنہوا کے مطابق برطانوی حکومت میں مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے امور کے وزیرِ مملکت ہامش فالکنر نے کہا ہے کہ برطانیہ مشرقی یمن کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ان کے مطابق سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور صدارتی قیادت کونسل کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھی جا رہی ہے تاکہ بحران کا جلد از جلد سیاسی حل تلاش کیا جا سکے۔ادھر بین الاقوامی مؤقف میں آنے والی اس تازہ پیش رفت کے تناظر میں صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ اور یمنی مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈر رشاد العلیمی نے سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یمنی مسلح افواج کی مدد کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تعاون کا مقصد کشیدگی پر قابو پانا، ثالثی کے عمل کا تحفظ یقینی بنانا اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری عسکری اقدامات کرنا ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق عالمی حمایت اور علاقائی شراکت داروں کی سفارتی سرگرمیاں یمن میں جاری بحران کے حل کی جانب ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہیں، تاہم زمینی صورتحال میں بہتری کے لیے عملی اقدامات ناگزیر قرار دیے جا رہے ہیں۔