نیویارک۔28دسمبر (اے پی پی):امریکا کی شمال مشرقی ریاستوں اور گریٹ لیکس کے علاقوں میں شدید برفانی طوفان کے باعث 1500 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ سڑکوں پر کئی انچ برف کی تہہ جم گئی اور نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں 4.3 انچ برف ریکارڈ کی گئی جو جنوری 2022 کے بعد سب …
امریکا کی شمال مشرقی ریاستوں اور گریٹ لیکس کے علاقوں میں شدید برفانی طوفان سے نظام زندگی مفلوج، 1500سے زائد پروازیں منسوخ

مزید خبریں
نیویارک۔28دسمبر (اے پی پی):امریکا کی شمال مشرقی ریاستوں اور گریٹ لیکس کے علاقوں میں شدید برفانی طوفان کے باعث 1500 سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں جبکہ سڑکوں پر کئی انچ برف کی تہہ جم گئی اور نظام زندگی بری طرح مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔امریکی میڈیا کے مطابق نیویارک سٹی کے سینٹرل پارک میں 4.3 انچ برف ریکارڈ کی گئی جو جنوری 2022 کے بعد سب سے زیادہ ہے ، برفباری کی وجہ سے نیوجرسی میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی،نیویارک کےگورنر نے بھی ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے جبکہ نیوجرسی ،کنیکٹی کٹ اور نیویارک کے شہریوں کو بلا ضرورت گھر سےنہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اردو نیوز نے امریکی خبر رساں ادارے کے حوالے سے بتایا کہ اس مصروف ترین تعطیلاتی سیزن کے دوران جہاں ہزاروں افراد سڑکوں اور ہوائی اڈوں کا رخ کر رہے تھے، وہیں برفانی طوفان کے باعث سیکڑوں پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو گئیں۔نیویارک شہر میں تقریباً چار انچ برف باری ریکارڈ کی گئی جو اگرچہ پیش گوئی سے کچھ کم تھی تاہم اس نے فضائی اور زمینی سفر میں بڑی رکاوٹیں پیدا کیں۔فلائٹ ٹریکنگ سروس فلائٹ اویئر کے مطابق جمعے کی رات سے اب تک کم از کم 1500 پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں البتہ سنیچر کی صبح سے صورتحال میں بہتری آنا شروع ہوئی ہے۔امریکا کی نیشنل ویدر سروس کے ماہر باب اوراویک کا کہنا ہے کہ طوفان اب بتدریج دم توڑ رہا ہے تاہم شمال مشرق کے کچھ حصوں میں اب بھی ہلکی برف باری جاری ہے۔
ان کے مطابق یہ طوفان شمال مغرب سے جنوب مشرق کی جانب بڑھا جس کے دوران نیویارک کے علاقے لانگ آئی لینڈ میں چھ انچ اور کیٹسکلز کے پہاڑی مقامات پر 10 انچ تک برف پڑی۔نیویارک، جان ایف کینیڈی اور لاگارڈیا جیسے بڑے ایئرپورٹس نے سوشل میڈیا کے ذریعے مسافروں کو پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ خراب موسم پروازوں کے شیڈول کو متاثر کر سکتا ہے۔حکام نے گریٹ لیکس سے لے کر جنوبی نیو انگلینڈ تک کے علاقوں میں درخت گرنے اور بجلی کی فراہمی منقطع ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کیا ہے۔
نیویارک کے مشہور زمانہ ٹائمز سکوائر میں سرخ لباس پہنے میونسپل ورکرز بیلچوں اور سنو بلورز کی مدد سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو صاف کرتے نظر آئے۔ حکام نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ طوفان کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ امدادی ٹیمیں سڑکوں کی صفائی کا کام بلاتعطل جاری رکھ سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ مسافر سڑکوں کی صورتحال اور ممکنہ بندشوں پر نظر رکھیں اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کریں۔
دوسری جانب ،ریاست کیلیفورنیا میں شدید بارشوں، سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ پہاڑی علاقوں میں 18 انچ تک بارش سے لاس اینجلس کے قریبی پہاڑی قصبے رائٹ ووڈ میں گھروں اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور سڑکیں ملبے تلے دب گئیں۔امریکی محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اگلے ہفتے دوبارہ بارش شروع ہونے سے قبل کیلیفورنیا کو سانتا اینا نامی تیز ہواؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جن کی رفتار 60 میل فی گھنٹہ تک ہو سکتی ہے۔ان متوقع تیز ہواؤں سے کمزور درخت گرنے اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔








