ارومچی۔28دسمبر (اے پی پی):چین کے تیسرے بڑے آن شور آئل و گیس فیلڈ ’’پیٹروچائنا تارم آئل فیلڈ‘‘ میں شمسی توانائی کی سالانہ پیداوار اتوار تک 2 ارب کلو واٹ آور سے تجاوز کر گئی ہے۔شنہوا کے مطابق اب تک تارم آئل فیلڈ میں پانچ مرکزی شمسی توانائی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 26 لاکھ کلو واٹ ہے جبکہ پیداواری اسٹیشنوں اور انفرادی تیل …
چین کے شمال مغربی سنکیانگ میں قائم تارم آئل فیلڈ میں شمسی بجلی کی پیداوار 2 ارب کلو واٹ آور سے متجاوز
ارومچی۔28دسمبر (اے پی پی):چین کے تیسرے بڑے آن شور آئل و گیس فیلڈ ’’پیٹروچائنا تارم آئل فیلڈ‘‘ میں شمسی توانائی کی سالانہ پیداوار اتوار تک 2 ارب کلو واٹ آور سے تجاوز کر گئی ہے۔شنہوا کے مطابق اب تک تارم آئل فیلڈ میں پانچ مرکزی شمسی توانائی منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جن کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 26 لاکھ کلو واٹ ہے جبکہ پیداواری اسٹیشنوں اور انفرادی تیل و گیس کنوؤں پر 239 تقسیم شدہ فوٹو وولٹائک منصوبے بھی لگائے گئے ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 63 ہزار کلو واٹ ہے۔
تارم آئل فیلڈ کے نیو انرجی ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ لیانگ یولی نے کہا کہ قومی سطح پر 2024 میں گھریلو بجلی کے استعمال کے تناسب سے دیکھا جائے تو یہاں پیدا ہونے والی 2 ارب کلو واٹ آور گرین انرجی 18 لاکھ سے زائد افراد کی سالانہ بجلی کی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقدار 6 لاکھ ٹن معیاری کوئلے کے متبادل کے برابر ہے اور اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں 10 لاکھ 7 ہزار ٹن کمی واقع ہوئی ہے۔
لیانگ یولی کے مطابق شمسی توانائی سے پیدا ہونے والی بجلی کا تقریباً 8 فیصد حصہ تیل و گیس کی پیداواری سرگرمیوں میں موقع پر ہی استعمال کیا جاتا ہے جبکہ باقی 92 فیصد بجلی قومی گرڈ کو فراہم کی جاتی ہے، جس سے آئل فیلڈ کی توانائی کھپت اور اخراج میں کمی کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کو بھی بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔قابل تجدید توانائی کے وافر وسائل سے مالا مال خطہ سنکیانگ گزشتہ چند برسوں کے دوران توانائی کی صنعت کو بھرپور انداز میں فروغ دے رہا ہے۔تکلامکان صحرا میں واقع تارم آئل فیلڈ چین کا تیسرا بڑا آن شور تیل و گیس فیلڈ، سب سے بڑا الٹرا ڈیپ تیل و گیس پیداواری مرکز اور چین کے مغرب سے مشرق تک گیس ترسیلی منصوبے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔









