چینی لیتھیم بیٹریوں کی طلب 2026 کے اوائل میں کم ہونے کا امکان ہے، چائنا کار ایسو سی ایشن

بیجنگ۔29دسمبر (اے پی پی):چین کی کار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل چوئی ڈونگشو نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت اور بیٹری کی برآمدات میں متوقع کمی کے نتیجے میں چینی لیتھیم بیٹریوں کی طلب ممکنہ طور پر 2026 کے اوائل میں کم ہو جائے گی۔ ٹی آر ٹی کے مطابق چوئی ڈونگشو نے کہا کہ کار خریدنے کے لیے ٹیکس مراعات ختم کی جا رہی ہیں اس لیے …

بیجنگ۔29دسمبر (اے پی پی):چین کی کار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل چوئی ڈونگشو نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت اور بیٹری کی برآمدات میں متوقع کمی کے نتیجے میں چینی لیتھیم بیٹریوں کی طلب ممکنہ طور پر 2026 کے اوائل میں کم ہو جائے گی۔ ٹی آر ٹی کے مطابق چوئی ڈونگشو نے کہا کہ کار خریدنے کے لیے ٹیکس مراعات ختم کی جا رہی ہیں اس لیے مسافر گاڑیوں کی فروخت آئندہ سال کے شروع میں رواں سال کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 30 فیصد تک کم ہو جائے گی ۔

چوئی ڈونگشو کہا کہ اس سال کے آخر سے نئی توانائی کی بیٹریوں کی طلب میں زبردست کمی آئے گی، اس لیے بیٹری بنانے والوں کو پیداوار کم اور اتار چڑھاؤ سے نمٹنے کے لیے کچھ آرام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین بیٹری ٹیکنالوجی کی تیاری اور برآمدات کے حوالے سے بڑا ملک ہے اور الیکٹرک گاڑیوں اور پاور نیٹ ورکس میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی عالمی مانگ میں اضافے سے فائدہ اٹھا رہا ہے تاہم آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران طلب میں بڑی کمی بیٹری بنانے والی کمپنیوں کو نقصان پہنچائے گی جن میں کنٹیمپریری ایمپریکس ٹیکنالوجی لمیٹڈ (سی اے ٹی ایل)اور ایو انرجی شامل ہیں۔

چوئی ڈونگشو نے کہا کہ ملکی طلب میں کمی برآمدات سے پوری نہیں ہو سکتی۔چین کی لیتھیم بیٹری کی یورپی یونین کو برآمدات( جو اس کی سب سے بڑی بیرونی مارکیٹ ہے) 2025 میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد بڑھی جبکہ امریکا کو برآمدات 9.5 فیصد کم ہو گئیں۔ چوئی ڈونگشو نے کہا کہ امریکی برآمدات میں کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکی مصنوعی ذہانت کے بوم سے توانائی ذخیرہ کرنے کی بڑھتی طلب چینی بیٹریوں کی طلب کو نہیں بڑھا رہی۔یو بی ایس کے تجزیہ کار یشو یان نے اس ماہ کہا کہ چین کی کاروں کی صنعت کو امریکی پابندیوں کی وجہ سے ان منصوبوں پر پابندیوں کا سامنا ہے جو سرمایہ کاری کے ٹیکس کریڈٹس حاصل کر رہے ہیں ۔