ایران مغرب کی اشتعال انگیزی کے جواب میں تحمل کا مظاہرہ کر رہا، روس

ماسکو۔29دسمبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ ایران مغرب کی تمام اشتعال انگیزیوں کے جواب میں انتہائی درجے کے تحمل کا مظاہرہ اور مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے گزشتہ روز ’’تاس‘‘کو دیئے گئے ایک انٹرویو مکے دوران کہی۔ انہوں نے 2025 کے نتائج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں نے انتہائی …

ماسکو۔29دسمبر (اے پی پی):روس نے کہا ہے کہ ایران مغرب کی تمام اشتعال انگیزیوں کے جواب میں انتہائی درجے کے تحمل کا مظاہرہ اور مذاکرات کے لئے آمادگی ظاہر کر رہا ہے۔ العربیہ اردو کے مطابق یہ بات روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے گزشتہ روز ’’تاس‘‘کو دیئے گئے ایک انٹرویو مکے دوران کہی۔ انہوں نے 2025 کے نتائج کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایرانیوں نے انتہائی درجے کے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے اور مغرب کی جانب سے تمام اشتعال انگیزیوں اور بلیک میلنگ کا جواب مذاکرات کی آمادگی سے دیا ہے تاکہ موجودہ اختلافات کے سیاسی حل کے راستے تلاش کیے جا سکیں۔

روسی وزیر خارجہ نے یورپی رہنماؤں پر الزام عائد کیا کہ وہ ان کے ملک اور یوکرین کے درمیان امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں انتظامیہ کی تبدیلی کے بعد یورپ اور یورپی یونین امن کی راہ میں بنیادی رکاوٹ بن چکے ہیں۔ واضح رہے کہ سلطنتِ عمان کی ثالثی میں نیوکلیئر معاملے کے حوالے سے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے پانچ دور ہوئے تھے لیکن وہ کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گئے۔ ایرانی وفد مذاکرات کے چھٹے دور کی تیاری کر رہا تھا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر دی۔

امریکی افواج نے بھی ایران کی مشہور ایٹمی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔بعد ازاں ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنا تعاون روک دیا ۔ یورپی ٹرائیکا نے ’’سنیپ بیک‘‘ میکانزم یا جسے ٹریگر میکانزم کہا جاتا ہے اسے فعال کر دیا تاکہ سلامتی کونسل ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دے۔ اس اقدام کو روس اور چین دونوں نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔