لاہور۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلی غذائی تحفظ کے لئے بڑے چیلنجز ہیں اگر فصلوں کی پیداوار کو نہ بڑھایا گیا تو ملکی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے سنٹر آف ایکسیلینس ان مالیکیولر بائیالوجی میں نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ …
خوراک کی پیداوار نہ بڑھائی گئی تو ملکی ضروریات پوری نہیں ہوں گی، وفاقی وزیر رانا تنویر حسین

مزید خبریں
لاہور۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی پالیسی رانا تنویر حسین نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی اورموسمیاتی تبدیلی غذائی تحفظ کے لئے بڑے چیلنجز ہیں اگر فصلوں کی پیداوار کو نہ بڑھایا گیا تو ملکی ضروریات کو پورا کرنا مشکل ہو گا۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے سنٹر آف ایکسیلینس ان مالیکیولر بائیالوجی میں نیشنل فوڈ سیکورٹی پالیسی کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اس موقع پر پاکستان اکیڈمی آف سائنس کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر کوثر عبداللہ ملک ، ڈاکٹر معاذ الرحمان، نیشنل فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے ماہرین، سائنسدانوں اور پالیسی میکرز نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان میں کسی بھی شعبے میں ٹیلینٹ کی کمی نہیں۔کسی بھی شعبے کی ترقی اور بہتری کیلئے تحقیق بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ اداروں میں ریسرچ کے فوائد ہمیشہ لانگ ٹرم ہوتے ہیں ریسرچ کے نتیجے میں فوری نتائج نہ ملنے کی وجہ سے حکومتیں اس میں سرمایہ کاری کرنے میں زیادہ دلچسپی نہیں لیتی۔رانا تنویر حسین نے کہا کہ ہماری نیشنل سکیورٹی، فوڈ سیکورٹی کے ساتھ منسلک ہے فوڈ ریسرچ میں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کا چیلنج سب سے زیارہ شعبہ زراعت کو متاثر کررہا ہے پیداواری لاگت میں اضافے سمیت دیگر چیلنجز میں زراعت اور کسان کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ہم 6ملین ٹن گندم 3500روپے فی من کے حساب سے کسانوں سے خریدیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گندم ہماری سب سے ضروری فصل ہے ہمیں اس کی پیداوار میں خودکفیل ہونا چاہئے۔








