اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں جدت لا رہے ہیں ، پاکستان میں تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے، مگر پولیو کا نہیں،بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں،پولیو وائرس اب بھی پاکستان میں موجود ہے ۔جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کم وقت میں زیادہ کام کرنا ہے ، پاکستان …
ہیلتھ کیئر سسٹم میں جدت لا رہے ہیں ، پاکستان میں پولیو کے علاوہ تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے، اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں، وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ہیلتھ کیئر سسٹم میں جدت لا رہے ہیں ، پاکستان میں تقریباً ہر بیماری کا علاج موجود ہے، مگر پولیو کا نہیں،بچوں کو پولیو کے قطرے لازمی پلوائیں،پولیو وائرس اب بھی پاکستان میں موجود ہے ۔جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ہم نے کم وقت میں زیادہ کام کرنا ہے ، پاکستان کا طبی نظام زبوں حالی کا شکار ہے، ہیلتھ کیئر ہسپتال کے باہر سے شروع ہوتی ہے، ہمارے ہاں سیوریج سسٹم ٹریٹمنٹ کا تصور ہی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے، ہمیں احتیاطی تدابیر اور بیماریوں سے بچائو پر توجہ دینا ہوگی، آلودہ پانی کی وجہ سے 70 فیصد بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ،اگر صاف پانی میسر ہو تو ہسپتالوں پر 70 فیصد مریضوں کا بوجھ کم ہو جائے۔سیوریج کی ٹریٹمنٹ کیلئے مقامی سطح پر نظام کا قیام لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ احتیاط اور بچائو کی تدابیر ہی ہماری حکمت عملی ہونی چاہئے، ہمیں اپنا طرز زندگی بہتر بنانا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا آج سے 10 سال بعد کینسر سے نجات حاصل کر چکی ہو گی، ہم 10 سال بعد بھی اس بحث میں الجھے ہوں گے کہ ویکسین حلال ہے یا حرام، ہمیں سوچنا چاہئے کہ بیماریوں سے کیسے بچا جا سکتا ہے، ہمیں نئے ہسپتال بنانے کی ضرورت ہے، ہسپتالوں کی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ہمیں تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی بھی ضرورت ہے۔








