اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):حکومت نے مالی سال26۔ 2025کے پہلے پانچ ماہ (جولائی۔نومبر) کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت کل مختص کردہ ایک کھرب روپے میں سے 348.97 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے لیے وفاقی پی ایس …
حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران پی ایس ڈی پی کے تحت کل مختص کردہ ایک کھرب روپے میں سے 348.97 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی اجازت دے دی

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):حکومت نے مالی سال26۔ 2025کے پہلے پانچ ماہ (جولائی۔نومبر) کے دوران سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت کل مختص کردہ ایک کھرب روپے میں سے 348.97 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز کے استعمال کی اجازت دے دی ہے۔منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کی وزارت سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے لیے وفاقی پی ایس ڈی پی کی کل مختص رقم وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کے لیے 770.50 ارب روپے اور کارپوریشنز کے لیے 229.50 ارب روپے ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ جائزہ مدت میں وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں کو 237.76 ارب روپے کی اجازت دی گئی جبکہ اصل اخراجات 68.41 ارب روپے رہے۔
کارپوریشنز کے لیے 111.20 ارب روپے کی اجازت دی گئی جن میں سے 23.49 ارب روپے خرچ کیے گئے۔وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں میں فنڈز کی سب سے زیادہ اجازت صوبوں اور خصوصی علاقہ جات کے لیے 68.03 ارب روپے کی گئی۔ اس کے بعد واٹر ریسورسز ڈویژن کو 45.11 ارب روپے اور کیبنٹ ڈویژن کو 43.17 ارب روپے ملے۔ہائیر ایجوکیشن کمیشن کو 15.74 ارب روپے، منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات ڈویژن کو 8.14 ارب روپے، ریلویز ڈویژن کو 7.84 ارب روپے، داخلہ ڈویژن کو 6.46 ارب روپے، وفاقی ایجوکیشن اینڈ پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کو 6.50 ارب روپے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈویژن کو 5.67 ارب روپے جولائی۔نومبر کی مدت میں اجازت دی گئی۔
دیگر قابل ذکر ریلیز میں نیشنل ہیلتھ سروسز، ریگولیشنز اینڈ کوآرڈینیشن ڈویژن کے لیے 5.02 ارب روپے، ڈیفنس ڈویژن کے لیے 4.16 ارب روپے، ریونیو ڈویژن کے لیے 3.99 ارب روپے، سائنس اینڈ ٹیکنالوجیکل ریسرچ ڈویژن کے لیے 1.68 ارب روپے اور نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ ڈویژن کے لیے 1.48 ارب روپے شامل ہیں۔کارپوریشنز کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کو 79.44 ارب روپے کی اجازت دی گئی جبکہ پاور ڈویژن کے اداروں این ٹی ڈی سی اور پیپکو کو اس مدت میں 31.76 ارب روپے ملے۔








