اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):پاکستان ریلویز نے مالی سال 2024-25 کے دوران 8.2 ملین ٹن مال بردار سامان کی نقل و حمل کی،جس میں پیٹرولیم مصنوعات، کنٹینرز، کوئلہ، راک فاسفیٹ، کھاد، گندم اور دیگر بلک کموڈیٹیز شامل تھیں۔نیشنل ٹرانسپورٹ پالیسی 2018 کے مطابق محکمہ کو ملک بھر کے صنعتی زونز کے درمیان اور سمندری بندرگاہوں تک کی مال بردار نقل و حمل میں بنیادی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری …
پاکستان ریلویز نے مالی سال 2024-25 کے دوران 8.2 ملین ٹن مال بردار سامان کی نقل و حمل کی

مزید خبریں
اسلام آباد۔29دسمبر (اے پی پی):پاکستان ریلویز نے مالی سال 2024-25 کے دوران 8.2 ملین ٹن مال بردار سامان کی نقل و حمل کی،جس میں پیٹرولیم مصنوعات، کنٹینرز، کوئلہ، راک فاسفیٹ، کھاد، گندم اور دیگر بلک کموڈیٹیز شامل تھیں۔نیشنل ٹرانسپورٹ پالیسی 2018 کے مطابق محکمہ کو ملک بھر کے صنعتی زونز کے درمیان اور سمندری بندرگاہوں تک کی مال بردار نقل و حمل میں بنیادی کردار ادا کرنے کی ذمہ داری تفویض کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اہلکار نے کہا کہ پرانے انفراسٹرکچر، محدود لائن کی گنجائش اور رولنگ سٹاک کی کمی نے مال بردار آپریشنز کو محدود کر دیا ہے۔ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان ریلویز نے مال بردار نقل و حمل کو بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات شروع کیے ہیں۔
ان میں سے ایک سندھ حکومت کے تعاون سے تھر کوئلہ کی کانوں کو مرکزی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے کے لیے 105 کلومیٹر طویل ریلوے لائن کی تعمیر ہے۔ اس منصوبے کا مقصد ملک بھر میں کوئلہ کی نقل و حمل کو آسان بنانا اور درآمد شدہ کوئلہ پر درآمداتی بل کو کم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلویز اگلے سال مین لائن-1 (ایم ایل-1) کے کراچی–روہڑی سیکشن (480 کلومیٹر) اور مین لائن-3 (ایم ایل-3) کے روہڑی–نوکنڈی سیکشن (884 کلومیٹر) پر کام شروع کرنے کا منصوبہ بھی رکھتی ہے۔ان منصوبوں سے نقل و حمل کی گنجائش میں اضافہ متوقع ہے جبکہ ریکوڈک اور تھر کوئلہ سے اضافی مال بردار ٹریفک کی حمایت ہوگی۔علاقائی رابطے کے اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے اہلکار نے کہا کہ پاکستان ریلویز کا ازبکستان–افغانستان–پاکستان ریلوے کوریڈور (یو اے پی آر سی) کی تعمیر، اسلام آباد–تہران–استنبول (آئی ٹی آئی) ٹرین کی بحالی اور موجودہ ریل لنکس کے ذریعے ایران سے اور افغانستان کے ذریعے ملٹی ماڈل روٹس استعمال کرتے ہوئے وسطی ایشیائی جمہوریات، روس اور اس سے آگے تک پائلٹ ٹرین کے آپریشن کا منصوبہ ہے۔
بہتر حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کے لیےپبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت کئی ٹریک کی بحالی کے منصوبے جاری ہیں۔ ان میں چمن یارڈ سے پاکستان–افغانستان سرحد تک نئی ٹریک کی تعمیر، کوٹری–جامشورو سے کوٹری آخوند آباد سیکشن کی بحالی، ٹندو آدم–روہڑی اور روہڑی–خانپور سیکشنز پر حفاظتی کام اور متعدد دیگر روٹس پر ضروری حفاظتی اپ گریڈز شامل ہیں۔رولنگ سٹاک کی دستیابی کو مضبوط بنانے کے لیے 200 ہائی کیپیسٹی مال بردار ویگنز کو پہلے ہی فلیٹ میں شامل کیا جا چکا ہےجبکہ مزید 620 ہائی کیپیسٹی ویگنز کو مقامی طور پر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پاکستان ریلویز کے موجودہ رولنگ سٹاک میں شامل کیا جا سکے۔








