تسکین احمد کا بی سی بی کے فرنچائز ٹی20 ٹورنامنٹس میں این او سی دینے کے فیصلے کا خیرمقدم

ڈھاکہ۔30دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بائولر تسکین احمد نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)کے فرنچائز بیسڈ ٹی20 ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اور اسے عالمی سطح پر کھلاڑیوں کی بہترین نمائش اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق بی سی بی نے تسکین احمد کو یو اے ای کے آئی …

ڈھاکہ۔30دسمبر (اے پی پی):بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بائولر تسکین احمد نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی)کے فرنچائز بیسڈ ٹی20 ٹورنامنٹس میں کھلاڑیوں کو این او سی دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، اور اسے عالمی سطح پر کھلاڑیوں کی بہترین نمائش اور ترقی کے لیے اہم قرار دیا ہے۔سپورٹس ویب سائٹ کے مطابق بی سی بی نے تسکین احمد کو یو اے ای کے آئی ایل ٹی20 میں شارجہ واریئرز کی نمائندگی کرنے کے لیے این او سی دیا ہے، جس پر تسکین احمد نے اس موقع کو بھرپور طریقے سے قبول کیا ہے۔

بورڈ نے مستفیض الرحمان کو بھی آئندہ آئی پی ایل سیزن میں شرکت کی اجازت دی ہے، جس کے نتیجے میں وہ مسلسل فرنچائز کرکٹ میں بہترین کارکردگی دکھانے کے بعد کولکتہ نائٹ رائڈرز کے ساتھ کھیلنے جا رہے ہیں۔بی سی بی کے اس فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے ر تسکین احمد نے کہا ہے کہ این او سی حاصل کرنا بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ جتنا زیادہ آپ کھیلتے ہیں، اتنا زیادہ آپ مختلف ثقافتوں کے کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کر کے سیکھتے ہیں۔ مختلف کوچنگ پینلز، مختلف ماحول اور ہر کوئی اپنے تجربات شیئر کرتا ہے، جو آپ کی کرکٹ کو بہتر بناتا ہے۔

تسکین احمد نے مزید کہا کہ بڑی ٹی20 لیگ جیسے آئی ایل ٹی20 میں ہر ٹیم کا بیٹنگ لائن اپ بہت مضبوط ہوتا ہے، جس کی وجہ سے گیند بازوں کے لیے چیلنجز بڑھ جاتے ہیں۔ ہر ٹیم کا بیٹنگ لائن اپ بہت مضبوط ہوتا ہے، ایک کے بعد ایک بیٹر آتا ہے، تو گیند بازوں کے لیے یہ آسان نہیں ہوتا۔ لیکن یہ چیلنج اعتماد پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ ایسی تجربات سے پانچ فیصد بھی بہتری حاصل کرتے ہیں، تو وہ آپ کی قومی ٹیم کے لیے فرق ڈالتی ہے۔ تسکین احمد نے یہ بھی کہا کہ بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں کھیلنا کھلاڑیوں کو مختلف ثقافتوں اور کوچنگ سٹائلز سے سیکھنے کا موقع دیتا ہے، جس سے ان کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔

آپ دیکھتے ہیں کہ دوسرے کھلاڑی کس طرح تیاری کرتے ہیں، ری کوور کرتے ہیں، ٹریننگ کرتے ہیں اور کھیل کے بارے میں سوچتے ہیں۔ آپ ان خیالات کو واپس اپنے ملک میں لاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب آپ ایک غیر ملکی کھلاڑی کے طور پر باہر کھیلتے ہیں، تو ہمیشہ دباؤ ہوتا ہے۔ اگر آپ کے ایک یا دو میچ خراب ہو جائیں تو آپ کو باہر بھی کیا جا سکتا ہے۔ تسکین احمدنے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ مستفیض الرحمان کی آئی پی ایل میں شرکت اس کے مستقل پرفارمنس کا نتیجہ ہے۔ مستفیض الرحمان کو کولکتہ نائٹ رائڈرز نے 9.2 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا ہے، جس سے وہ آئی پی ایل کی تاریخ میں سب سے مہنگے بنگلہ دیشی کھلاڑی بن گئے ہیں۔

مزید خبریں