لیپ ٹاپ سکیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک تاریخی اور وژنری منصوبہ ہے، خواتین کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، امیر مقام

سوات۔ 30 دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم لیپ ٹاپ سکیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک تاریخی اور وژنری منصوبہ ہے جو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر جاری ہے، خواتین کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سوات یونیورسٹی کا جدید ویمن کیمپس …

سوات۔ 30 دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ وزیرِاعظم لیپ ٹاپ سکیم نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک تاریخی اور وژنری منصوبہ ہے جو مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر جاری ہے، خواتین کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، سوات یونیورسٹی کا جدید ویمن کیمپس طالبات کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا. ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو یونیورسٹی آف سوات میں وزیرِاعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تقسیم کی تقریب اور سوات یونیورسٹی ویمن کے نئے کیمپس کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا.

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے نئے کیمپس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا. اس منصوبے پر مجموعی طور پر 1.3 ارب روپے لاگت آئی ہے، جس کا اعلان سابق وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے کیا تھا. افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ خواتین کی تعلیم حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور یہ جدید ویمن کیمپس طالبات کو معیاری تعلیمی سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا. انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل میاں محمد نواز شریف کے تعلیمی وژن کا عملی ثبوت ہے جس کا مقصد ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع کو فروغ دینا ہے. وفاقی وزیر نے کہا کہ 2016 میں نواز شریف کے دورۂ سوات کے دوران انہوں نے صوابی اور شانگلہ یونیورسٹی کیمپسز کی منظوری دی تھی.

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ دوسری بار سوات آ کر طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم کر رہے ہیں. یہ منصوبہ ابتداء میں سابق وزیرِاعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے شروع کیا تھا جسے اب وزیرِاعظم میاں محمد شہباز شریف کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں، بدقسمتی سے 2018 میں یہ منصوبہ بند کر دیا گیا تھا تاہم وزیرِاعظم بننے کے فوراً بعد شہباز شریف نے اس اہم تعلیمی منصوبے کو بحال کیا. وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ اب تک ملک بھر میں 10 لاکھ سے زائد طلبہ و طالبات کو لیپ ٹاپ فراہم کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لیپ ٹاپ محض ایک آلہ نہیں بلکہ ایک وژن ہے جو نوجوان نسل کو جدید تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی سے جوڑتا ہے.

انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ خیبرپختونخوا حکومت بھی ایسے ترقیاتی اور تعلیمی منصوبوں میں مقابلے کی فضا پیدا کرے. انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کے تعلیمی منصوبوں میں 50 فیصد تعاون کےلیے تیار ہے، طلبہ کو میرٹ پر لیپ ٹاپ فراہم کیے جاتے رہیں گے، جبکہ اساتذہ کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے مواقع دینا وقت کی اہم ضرورت ہے. انجینئر امیر مقام نے اپنے خطاب میں سوات اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب اس علاقے میں آنا خواب لگتا تھا، مگر عوام اور سیکیورٹی فورسز کی عظیم قربانیوں سے امن بحال ہوا. انہوں نے کہا کہ پشتون نوجوان باصلاحیت ہیں اور ملک کو بہترین انجینئر، ڈاکٹر، پروفیشنل اور رہنما دے سکتے ہیں. ہمیں یہ تاثر ختم کرنا ہوگا کہ ہم سنجیدہ نہیں، پاکستان ہم سب کا ہے اور نوجوانوں کو ملک کی قیادت کے لیے آگے آنا ہوگا.

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے کہا کہ آج مجھے طلبہ کی تقاریر سننے کا موقع ملا، جو نہایت خوش آئند تجربہ تھا۔ یہ صرف ایک لیپ ٹاپ نہیں بلکہ ایک وژن ہے، جو نوجوان نسل کے روشن مستقبل کی علامت ہے، طلبہ محض نعرے لگانے کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہ قوم کا فکری سرمایہ ہوتے ہیں. انہوں نے کہا کہ میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں، اپنی زندگی میں سات مرتبہ موت کو قریب سے دیکھ چکا ہوں، مگر ان تمام رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود میں آج بھی حق کے راستے پر ثابت قدم ہوں، ایک قوم کی حیثیت سے ہم نے ہمیشہ کڑے حالات کا مقابلہ کیا ہے. تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہی اقوام کامیاب ہوتی ہیں جو اپنی تاریخ کو یاد رکھتی ہیں اور اس سے سبق حاصل کرتی ہیں. انہوں نے کہا کہ ہماری قوم نے ہجرت اور بے گھری کے کرب کو بھی سہا، ہمارے لوگ داخلی طور پر بے گھر ہوئے۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ دنیا کی ایک بڑی ریاست کو ہماری افواج نے پسپا کیا۔ ہمارے فیلڈ مارشل نے جرات اور دلیری کے ساتھ ملک کی قیادت کی، میں خود آزاد کشمیر میں پاک بھارت جھڑپوں کے دوران سرحد پر موجود رہا ہوں، ملک نے بروقت اور بھرپور جواب دے کر دنیا میں اپنا نام روشن کیا. وفاقی وزیر نے کہا کہ میں نے ہمیشہ پورے صوبے اور اپنے علاقوں کی بہترین انداز میں نمائندگی کی اور عوام کی خدمت کو اپنا فخر سمجھا۔ عوام کی مدد کر کے مجھے دلی اطمینان حاصل ہوا. میرا یقین ہے کہ خلوصِ نیت کے ساتھ ہم سب کامیاب انسان بن سکتے ہیں۔

یونیورسٹی کے لیے ایک آڈیٹوریم وقت کی اہم ضرورت ہے، اور میں اس حوالے سے بھرپور آواز اٹھاؤں گا۔ اس کے ساتھ ساتھ کھیلوں کے میدان، جم اور دیگر سہولیات بھی تعلیمی اداروں کے لیے ناگزیر ہیں. انہوں نے کہا کہ اگرچہ صوبوں کو زیادہ فنڈز دیے جا چکے ہیں، تاہم وہ سوات کے عوام اور طلبہ کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرتے رہیں گے. آخر میں انہوں نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ خلوص، محنت اور قومی جذبے سے ہم سب کامیاب ہو سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ مجھے آپ پر فخر ہے اور میں فخر سے کہتا ہوں کہ میں آپ ہی میں سے ہوں.

قبل ازیں وفاقی وزیر کے آمد پر وائس چانسلر سوات یونیورسٹی حسن شیر اور فیکلٹی ممبران نے پرتپاک استقبال کیا. انہوں نے وفاقی وزیر کو یونیورسٹی کے بارے میں بریفنگ دی. وفاقی وزیر نے نئے خواتین کیمپس کے لان میں درخت بھی لگایا. اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے مقامی رہنما قیموس خان صدر اپر سوات، عظمت علی خان، شیر قدم، واجد علی خان، ارشاد خان،تلاوت خان،مقصود علی، سابق وزیر محمد علی شاہ، حاجی عمران، سابق رکن صوبائی اسمبلی سردار خان اور فارق علی خان بھی موجود تھے.