چنیوٹ۔ 30 دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نےکہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب گامزن ہے ، آنے والا سال پاکستان کے لیے معاشی و سرمایہ کاری کے لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ چنیوٹ کے مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس کا 40 ہزار …
پاکستان معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب گامزن ہے ،وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
چنیوٹ۔ 30 دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نےکہا ہے کہ پاکستان معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کی جانب گامزن ہے ، آنے والا سال پاکستان کے لیے معاشی و سرمایہ کاری کے لحاظ سے نہایت اہم ثابت ہوگا۔ چنیوٹ کے مقامی ہوٹل میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہنڈرڈ انڈیکس کا 40 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ 74 ہزار کی حد عبور کرنا عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور امریکا، چین سمیت مختلف ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات سرمایہ کاری کے ماحول کو مضبوط بنا رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسلام آباد میں ون ونڈو سہولت کے لیے فیسیلی ٹیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے جہاں تمام وزارتوں کی نمائندگی ایک ہی چھت تلے موجود ہے تاکہ سرمایہ کاروں کو دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پہلی بار صوبوں میں سرمایہ کاری کی کانفرنسز ہوئیں جن سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت چہرہ اجاگر ہوا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی جانب سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی جماعتوں کو آپس میں بیٹھ کر نکالنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے بھی غیر جانبدار کردار ادا کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور حکومت نے مفاہمت کی طرف عملی قدم بڑھایا ہے کیونکہ ملک سب سے مقدم ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایف بی آر میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور حکومت تاجروں کےمسائل کو حل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے، حکومت ہر سال ہزاروں ارب روپے خسارے میں جانے والے اداروں پر خرچ کر رہی ہے جس کا بوجھ عوام پر پڑتا ہے، اس لیے ان اداروں کی نجکاری اور اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے نیچے ہیں اور 2 کروڑ 26 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جس پر حکومت کو فوری توجہ دینا ہوگی۔ آبادی میں اضافے کی شرح 2.5 فیصد ہے جو ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دیوالیہ ہونے کے خطرے سے نکل آیا ہے لیکن ہمیں ابھی بہت محنت کرنا ہے تاکہ ترقی کی رفتار کو بہتر بنایا جا سکے اور عام آدمی کو اس کے ثمرات مل سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر پاکستان کو ترقی کی راہ پر ڈالنے کے لیے پرعزم ہیں اور آنے والا وقت پاکستان کے لیے بہتری، استحکام اور خوشحالی کا پیغام لے کر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بہت کم ایسے ممالک ہیں جہاں 12 سے 15 کروڑ افراد چند گھنٹوں کے اندر ایک ہی معاشی مرکز سے منسلک ہو سکتے ہوں، جیسا کہ پاکستان میں فیصل آباد، لاہور ، ملتان، کراچی اور گرد و نواح میں ممکن ہے۔فیصل آباد، ملتان اور کراچی نہ صرف صنعتی بلکہ تجارتی لحاظ سے بھی پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ کے قریب بھی اعلیٰ تعلیمی سہولت میسر آنا اللہ کا خاص کرم ہے، اس کے نتیجے میں چنیوٹ اب صرف زرعی ضلع نہیں بلکہ صنعتی اور تعلیمی مرکز بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
حکومت کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت صنعتی زونز میں سرمایہ کاروں کو بے مثال سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ان میں زیرو انکم ٹیکس، کم قیمت زمین ، طویل المدتی لیز، مشینری پر رعایت اور کم لاگت بجلی و دیگر سہولیات شامل ہیں۔ یہ وہ مراعات ہیں جو عام طور پر دنیا کے کسی بھی بڑے صنعتی ملک میں نہیں ملتیں۔ انہوں نے کہا کہ چنیوٹ میں ایک میڈیکل کالج کے قیام کی اشد ضرورت ہے تاکہ علاقے کے طلبہ کو سستی، معیاری اور مقامی سطح پر طبی تعلیم میسر آ سکے اور بیرون ملک جانے کا رجحان کم ہو۔صحت کے شعبے میں بھی بہتری کی گنجائش ہے۔ عوام کو بہتر علاج کی سہولت ان کی دہلیز پر فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مجموعی طور پر اگر انفراسٹرکچر، موٹرویز، یونیورسٹیاں، میڈیکل کالجز اور صنعتی زونز کو ایک مربوط وژن کے تحت آگے بڑھایا جائے تو چنیوٹ، فیصل آباد، ملتان، کراچی اور پورا پاکستان اگلے چند برسوں میں معاشی ترقی، روزگار اور خوشحالی کی نئی مثال بن سکتا ہے۔یہ سب کچھ کسی ایک فرد یا حکومت کی نہیں بلکہ اجتماعی نیت، درست پالیسی اور مستقل مزاجی کی بدولت ممکن ہے ۔








