اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کاروباری سہولت مراکز کے قیام ، آسان کاروبار ایکٹ اور جامع ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے، خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں جن میں 2035ء تک دس سال تک ٹیکس میں رعایت اور مشینری کی …
سرمایہ کاری بورڈ کاروباری سہولت مراکز کے قیام ، آسان کاروبار ایکٹ اور جامع ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے، قیصر احمد شیخ

مزید خبریں
اسلام آباد۔30دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ سرمایہ کاری بورڈ کاروباری سہولت مراکز کے قیام ، آسان کاروبار ایکٹ اور جامع ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے، خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں جن میں 2035ء تک دس سال تک ٹیکس میں رعایت اور مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی سے استثنیٰ بھی شامل ہے۔ یہ بات انہوں نے بورڈ آف انویسٹمنٹ (بی او آئی) اور چائنا میڈیا گروپ (سی ایم جی) کے اشتراک سے ’’چین۔پاکستان اقتصادی شراکت داری کا نیا وژن‘‘ (ڈرائیونگ انوویشن ، شیئرنگ پراسپیریٹی )کے عنوان سے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سیمینار منگل کو سرمایہ کاری بورڈ میں منعقد ہوا جس میں وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
سیمینار کا مقصد پاک۔چین اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا جس میں خصوصاً جدت، سرمایہ کاری، عوامی مرکزیت پر مبنی ترقی اور دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی پالیسی ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کی گئی۔اپنے خیر مقدمی خطاب میں ڈائریکٹر چائنا میڈیا گروپ تصور زمان نے تمام شرکا کو خوش آمدید کہا اور سیمینار کے انعقاد کے لیے بورڈ آف انویسٹمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کے سیمینار پاک۔چین تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون کے نئے راستے کھولنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ سی پیک پاکستان کے لیے ایک حقیقی گیم چینجر ہے اور پاک۔چین تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ہیڈ آف چائنا پروگرام آئی آر ایس نبیلہ جعفر نے کہا کہ چین کی ترقی کی داستان پاکستان کے لیے سیکھنے کا ایک اہم عنصر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین نے نمایاں ترقی حاصل کی ہے اور وہ اپنے تجربات دوست ممالک خصوصاً پاکستان کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ موجودہ دور میں ٹیکنالوجی، جدت اور نالج بیسڈ اکانومی وقت کی اہم ضرورت ہیں اور ترقی کا مرکز ہمیشہ عوام اور انسان دوستی پر مبنی طرز حکمرانی ہونا چاہیے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نور فاطمہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور معاشی پالیسیوں میں پیش رفت اور تسلسل کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کے معاشی مفادات اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے بی او آئی اور ایس آئی ایف سی کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ادارہ جاتی تسلسل اور استحکام ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مضبوط پیغام دیتا ہے۔اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سردار طاہر محمود نے وفاقی وزیر قیصر احمد شیخ کی قیادت میں سرمایہ کاری بورڈ کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے بی ٹو بی روابط، مشترکہ منصوبوں، نوجوانوں کی شمولیت، سٹارٹ اپس اور انٹرپرینیور شپ کے فروغ میں اسلام آباد چیمبر کے کردار کا ذکر کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آئی سی سی آئی پاک۔چین تجارت و سرمایہ کاری کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری بورڈ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر جنرل بی او آئی ڈاکٹر ارفع اقبال نے شرکا کو بتایا کہ سرمایہ کاری بورڈ چین میں منعقدہ ستمبر بزنس کانفرنس کے نتائج کا سرگرمی سے فالو اپ کر رہا ہے جس میں نجی شعبے کے چار سو سے زائد نمائندوں نے شرکت کی اور 167 مشترکہ منصوبوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر اتفاق ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ بی او آئی ان معاہدوں کی بھرپور اور فعال پیروی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سرمایہ کاری بورڈ کے بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر (بی ایف سی) کا افتتاح، حالیہ ریگولیٹری اصلاحات، آسان کاروبار ایکٹ کے نفاذ اور خصوصی اقتصادی زونز کے حوالے سے پیش رفت جاری ہے۔اپنے صدارتی خطاب میں وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا کہ مجھے چین کے ساتھ تجارت کا طویل تجربہ ہے اور میں نے چین کی شاندار ترقی کا سفر قریب سے دیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین نے انسانی ترقی کو اپنی پالیسیوں کا مرکز بنایا اور معروف پاکستانی ماہر معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق کے ترقیاتی نظریات نے کئی ممالک میں سوچ اور منصوبہ بندی کی رہنمائی کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ تعلقات میں تاریخی کردار ادا کیا ہے اور اہم عالمی سفارتی مراحل میں بھی دونوں ممالک قریب رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین دنیا کے سب سے بڑے برآمد کنندگان میں سے ایک ہے اور پاکستان چین کے تجربات سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ خصوصاً چین سے سرمایہ کاری میں اضافے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی او آئی بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر، آسان کاروبار ایکٹ اور جامع ریگولیٹری اصلاحات جیسے اقدامات کو فعال طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش مراعات دی جا رہی ہیں جن میں 2035ء تک دس سال تک ٹیکس میں رعایت اور مشینری کی درآمد پر ڈیوٹی سے استثنیٰ بھی شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بی او آئی سرمایہ کاروں کی سہولت ، پاک۔چین اقتصادی تعاون کے فروغ اور پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا۔








