دس ممالک کا غزہ کی ’تباہ کن‘ صورت حال کے حوالے سے انتباہ

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):دس ممالک کے وزرائے خارجہ نےغزہ کی دوبارہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال ’تباہ کن‘ ہو چکی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ انتباہ ایک دن بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے غزہ میں اسلحہ ترک نہ کیا تو اسے سنگین نتائج …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):دس ممالک کے وزرائے خارجہ نےغزہ کی دوبارہ بگڑتی ہوئی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال ’تباہ کن‘ ہو چکی ہے۔ اے ایف پی کے مطابق یہ انتباہ ایک دن بعد سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو خبردار کیا کہ اگر اس نے غزہ میں اسلحہ ترک نہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

برطانیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ ’جیسے جیسے موسمِ سرما قریب آ رہا ہے، غزہ کے شہریوں کو شدید بارشوں اور گرتے ہوئے درجۂ حرارت کے باعث نہایت خراب حالات کا سامنا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اب بھی 13 لاکھ افراد کو فوری پناہ کی ضرورت ہے۔ نصف سے زائد طبی سہولیات جزوی طور پر کام کر رہی ہیں اور ضروری طبی آلات اور سامان کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ نکاسی آب کے نظام کی مکمل تباہی کے باعث 7 لاکھ 40 ہزار افراد زہریلے سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اپنے بیان میں غزہ میں خونریزی کے خاتمے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی میں ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، تاہم کہا کہ ’ہم غزہ کے شہریوں کی حالتِ زار سے نظریں نہیں چرا سکتے۔انہوں نے اسرائیلی حکومت سے متعدد فوری اور ضروری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، جن میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں کو غزہ میں مسلسل انداز میں کام کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔بیان میں کہا گیا 31 دسمبر کے قریب آتے ہی کئی معروف بین الاقوامی این جی او شراکت دار اسرائیلی حکومت کی نئی سخت شرائط کے باعث رجسٹریشن منسوخ ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں۔

بیان میں اقوامِ متحدہ اور اس کے شراکت داروں کو غزہ میں اپنا کام جاری رکھنے کی اجازت دینے اور ان درآمدات پر عائد غیر معقول پابندیاں ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا جنہیں دوہری استعمال کی اشیا قرار دیا جاتا ہے، جن میں طبی اور پناہ سے متعلق سامان بھی شامل ہے۔

مزید خبریں