اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):ملک میں رواں سال کے دوران پولیو کیسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے ، پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مستقل اور جامع کوششیں جاری ہیں، رواں سال کے دوران انسدادِ پولیو کی چھ بار مہم چلائی گئی جن میں سے پانچ قومی سطح پر کی گئیں۔نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر(این ای اوسی )کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان کوششوں کے نتیجے میں پولیو کے …
ملک میں پولیو کیسز میں نمایاں کمی، مکمل خاتمے کے لیے مستقل اور جامع کوششیں جاری رہیں گی

مزید خبریں
اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):ملک میں رواں سال کے دوران پولیو کیسز میں نمایاں کمی ہوئی ہے ، پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے مستقل اور جامع کوششیں جاری ہیں، رواں سال کے دوران انسدادِ پولیو کی چھ بار مہم چلائی گئی جن میں سے پانچ قومی سطح پر کی گئیں۔نیشنل ایمرجنسی آپریشن سنٹر(این ای اوسی )کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ان کوششوں کے نتیجے میں پولیو کے کیسز میں نمایاں کمی ہوئی، اور یہ تعداد 2024 میں 74 سے کم ہو کر 2025 میں 30 رہ گئی، جبکہ ستمبر 2025 کے بعد ملک کے کسی بھی حصے سے پولیو کا کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیو کے کیسز کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، تاہم پاکستان کی اس موذی مرض کے خلاف جدوجہد اُس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔۔ ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں تک موثر رسائی حاصل کرنے اور کسی بھی ممکنہ دوبارہ پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے ہدفی اقدامات، کمیونٹی کی موثر شمولیت اور تسلسل کے ساتھ حفاظتی ٹیکے لگانے کی سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔ پولیو ورکرز، سکیورٹی اہلکار اور مقامی انتظامیہ مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ ملک و پولیو فری بنا یا جا سکے ۔ان کامیابیوں کو 15 سے 21 دسمبر تک منعقد ہونے والی حالیہ قومی پولیو مہم کے دوران مزید تقویت ملی، حالیہ مہم کے دوران ملک بھر میں 98 فیصد سے زائد بچوں کو ویکسین فراہم کی گئی، جبکہ چاروں صوبوں کے علاوہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں بھی بہترین کارکردگی دیکھنے میں آئی۔
گزشتہ مہم کے مقابلے میں ویکسین سے محروم رہ جانے والے بچوں کی تعداد میں 18 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، بالخصوص جنوبی خیبر پختونخوا میں رسائی اور عملی کارکردگی میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی۔ تاہم، یہ کوششیں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ہر بچے کو پولیو سے مکمل تحفظ فراہم نہیں کر دیا جاتا۔حاصل ہونے والی پیشرفت مضبوط حکومتی قیادت اور وفاقی و صوبائی اداروں، فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز، سکیورٹی اہلکاروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے درمیان مسلسل اور موثر اشتراکِ عمل کی عکاس ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے، غلط معلومات کا موثر تدارک کرنے اور ہر بچے کو پولیو سے محفوظ بنانے کے لیے کمیونٹی، مذہبی رہنماؤں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے ساتھ مسلسل رابطہ اور شمولیت نہایت اہم ہے۔اگرچہ بعض علاقوں، خاص طور پر جنوبی خیبر پختونخوا کے چند حصوں میں مقامی سطح پر رسائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، تاہم ان خلا کی واضح نشاندہی کی جا چکی ہے اور انہیں ضلعی سطح پر مخصوص ہدفی اقدامات کے ذریعے دور کیا جا رہا ہے۔
بہتر مائیکرو پلاننگ، ٹیموں کی موثر تعیناتی، کمیونٹی کی شمولیت میں اضافہ اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ قریبی تعاون ان کوششوں کے مرکزی ستون ہیں۔2025 میں حاصل کردہ پیش رفت کو بنیاد بنا کرپاکستان کا انسدادِ پولیو پروگرام 2026 میں باقی ماندہ وائرس کی منتقلی روکنے اور مکمل خاتمے کی جانب فیصلہ کن پیش رفت کے لیے ہدفی اقدامات کو مزید تیز کر رہا ہے۔ وائرس کی منتقلی اب محدود ہو گئی ہے، آبادی میں مدافعت بڑھ رہی ہے اور تاریخی طور پر مشکل علاقوں میں کارکردگی بہتر ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں پروگرام ہر بچے کے لیے پولیو سے پاک مستقبل یقینی بنانے کے راستے پر مضبوطی سے گامزن ہے۔








