دوحہ۔31دسمبر (اے پی پی):قطر نے یمن میں ہونے والے حالیہ واقعات کے حوالے سےسعودی عرب اور یو اے ای کے بیانات کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔قطر کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قطر برادر ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے جو …
قطر کا سعودی عرب اور یو اے ای کے بیانات کا خیر مقدم

مزید خبریں
دوحہ۔31دسمبر (اے پی پی):قطر نے یمن میں ہونے والے حالیہ واقعات کے حوالے سےسعودی عرب اور یو اے ای کے بیانات کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ صورتحال کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔قطر کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ قطر برادر ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے جاری بیانات کا خیر مقدم کرتا ہے جو خطے کے مفادات کو ترجیح دینے، حسنِ ہمسائیگی کے اصولوں کو مضبوط کرنے اور جی سی سی ممالک کے منشور کی بنیادوں اور اصولوں کی پاسداری کے عزم کی نمائندگی کرتے ہیں۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق قطر یمن کی جا ئزحکومت کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ یمن متحد اور محفوظ رہے۔
یمن میں ایک بندرگاہ پر فضائی حملے میں یو اے ای کی طرف سے بھیجی گئی فوجی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے بعد سعودی عرب نے یو اے ای سے 24 گھنٹے میں یمن سے اپنے فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس صورتحال کے تناظر میں قطر کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ قطر یمن کی جائز حکومت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے اور یمن کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ، برادر یمنی عوام کے مفادات کی نگہداشت اور ان کی سلامتی، استحکام اور ترقی کی امنگوں کی تکمیل پر زور دیتا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے بیان میں تصدیق کی کہ برادر ملک سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی سلامتی، ریاستِ قطر کی سلامتی سے جدا نہیں کی جا سکتی، جو جی سی سی ممالک کے درمیان گہرے برادرانہ تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔بیان کے مطابق قطری ِ خارجہ اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ ریاستِ قطر خطے اور اس کے عوام کی خوشحالی، سلامتی اور استحکام کے حصول کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کو سب سے موثر ذریعہ سمجھنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔








