اسرائیل کا غزہ میں کام کرنے والے درجنوں امدادی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان ، صورتحال خوفناک ہونے کا اندیشہ

تل ابیب۔31دسمبر (اے پی پی):اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں کام کرنے والے درجنوں امدادی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان اداروں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز ، نارویجن ریفیوجی کونسل،کیئرانٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، آکسفیم اور کیریٹاس جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا کہ جمعرات سے شروع ہونے والی پابندیوں کا سامنا کرنے والے …

تل ابیب۔31دسمبر (اے پی پی):اسرائیل نے جنگ سے تباہ حال غزہ میں کام کرنے والے درجنوں امدادی اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ ان اداروں میں ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز ، نارویجن ریفیوجی کونسل،کیئرانٹرنیشنل، انٹرنیشنل ریسکیو کمیٹی، آکسفیم اور کیریٹاس جیسے بڑے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے کہا کہ جمعرات سے شروع ہونے والی پابندیوں کا سامنا کرنے والے تقریباً تین درجن امدادی اداروں نے اپنے عملے، فنڈنگ ​​اور آپریشنز کے بارے میں معلومات شیئر کرنے کے لیے نئے تقاضوں کو پورا نہیں کیا۔

اسرائیل نے ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز پر الزام عائد کیا کہ یہ ادارہ عملے کے کچھ ارکان کے کردار کو واضح کرنے میں ناکام رہا اور الزام لگایا کہ وہ فلسطینی عسکریت پسندوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر امیچائی چکلی نے اس حوالےسے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گردی کے لیے انسانی ہمدردی کے فریم ورک کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ڈاکٹرزودآئوٹ بارڈرز( فرانسیسی نام کا مخفف ایم ایس ایف)غزہ میں کام کرنے والے سب سے بڑے طبی اداروں میں سے ایک ہے جہاں اسرائیل نے جنگ کے دوران ہسپتالوں سمیت صحت کے شعبے کو تباہ کر دیا ہے۔ ایم ایس ایف کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فیصلے سےغزہ میں اس کی امدادی سرگرمیوں پر تباہ کن اثر پڑے گا ۔ ادارے نے اپنے عملے بارے اسرائیل کے الزامات کی بھی تردید کی۔

بین الاقوامی امدادی اداروں نے کہا کہ اسرائیل کا اقدام ہٹ دھرمی پر مبنی ہے ۔ دوسری طرف اسرائیل نے کہا کہ غزہ میں کام کرنے والے 37 امدادی اداروں کے پاس اجازت نامے کی تجدید نہیں ہوئی ہے۔امدادی تنظیمیں خوراک کی تقسیم، صحت کی دیکھ بھال، ذہنی صحت اور معذوروں کے لئے خدمات اور تعلیم کے شعبوں میں سماجی خدمات سرانجام دیتی ہیں۔ فلسطین این جی اوز نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے امجد شاوا نے کہا کہ اسرائیل کا یہ فیصلہ غزہ میں انسانی تباہی میں اضافے کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔شاوا نے بتایا کہ غزہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والے اداروں پر پابندیاں فلسطینیوں کو باہر نکالنے، غزہ سے ڈی پورٹ کرنے کے اسرائیلی منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے ہیں۔

برطانیہ نے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر جیمز سمتھ جنہوں نے غزہ میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں اور پھر اسرائیلی حکام نے انہیں دوبارہ داخلے سے منع کر دیا، نے امدادی گروپوں پر پابندیوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایسی صورتحال جو پہلے سے ہی خوفناک ہے اسے مزید بھیانک بنا دیا جائے گا۔ تبدیلیاں فوری ہوں گی اور وہ بے رحم ہوں گی۔ اسرائیل کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کم از کم 10 ممالک نے غزہ میں انسانی صورتحال کے نئے سرے سے بگاڑ کے بارے میں سنگین تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تباہ کن قرار دیا۔

برطانیہ، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، جاپان، ناروے، سویڈن اور سوئٹزرلینڈ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی غزہ میں شہریوں کو شدید بارشوں اور درجہ حرارت میں کمی کے ساتھ خوفناک حالات کا سامنا ہے۔13 لاکھ لوگوں کو اب بھی فوری پناہ گاہوں کی ضرورت ہے۔ ہسپتال اور صحت کی نصف سے زیادہ دیگر سہولیات صرف جزوی طور پر کام کر رہی ہیں اور انہیں ضروری طبی آلات اور سامان کی کمی کا سامنا ہے۔ صفائی کے بنیادی ڈھانچے کی مکمل تباہی نے تقریباً ساڑھے 7 لاکھ افراد کو شدید سردی میں سیلابی پانی کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔

مذکورہ ممالک نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ بین الاقوامی این جی اوز غزہ میں مناسب طریقے سے کام کر سکیں اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی فراہمی میں اضافے کے لئے زمینی گزرگاہیں کھولنے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ 4 ماہ پہلے بھی ایک سو سے زیادہ امدادی اداروں نے اسرائیل پر زندگی بچانے والی امداد کو غزہ میں داخل ہونے میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عائد کیا تھا اور اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امداد کو غزہ کے مکینوں کے لئے ہتھیار بنانے کا سلسلہ ختم کرے ۔

اس وقت اسرائیل نے امدادی ٹرکوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔واضح رہے کہ کچھ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطینی عملے کی فہرست اس خوف سے جمع نہیں کرائی کہ اسرائیل ان ملازمین کو نشانہ بنائے گا۔ نارویجن ریفیوجی کونسل کی کمیونیکیشن ایڈوائزر شائنا لو نے کہا یہ اقدام قانونی اور حفاظتی نقطہ نظر سے کیا گیا ہے کیونکہ غزہ میں اسرائیل اپنے حملوں میں سینکڑوں امدادی کارکنوں کومار چکا ہے۔ امدادی گروپوں کے لائسنسوں کی تجدید نہ کرنے کے فیصلے کا مطلب ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں ان کے دفاتر بند ہو جائیں گے اور تنظیمیں غزہ میں بین الاقوامی عملہ یا امداد نہیں بھیج سکیں گی۔

مزید خبریں