غزہ میں شدید بارشوں کے باعث صحت کے خطرات میں اضافہ

اقوام متحدہ ۔31دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید موسمی حالات نے مزید جانی نقصان اور صحت کے سنگین خطرات کو جنم دیا ہے، جو پہلے ہی جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ علاقے کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد (اوسی ایچ اے ) کے مطابق موسمی بارشیں، جو پہلے ہی …

اقوام متحدہ ۔31دسمبر (اے پی پی):اقوام متحدہ کے امدادی اداروں کے مطابق غزہ میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران شدید موسمی حالات نے مزید جانی نقصان اور صحت کے سنگین خطرات کو جنم دیا ہے، جو پہلے ہی جنگ کی تباہ کاریوں سے متاثرہ علاقے کے لیے ایک نیا چیلنج بن گئے ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امداد (اوسی ایچ اے ) کے مطابق موسمی بارشیں، جو پہلے ہی بدترین انسانی صورتحال کو مزید پیچیدہ کر رہی ہیں، جنگ سے متاثرہ عمارتوں کو گرنے، خیموں میں سیلاب اور لوگوں کے سامان کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔

اس صورتحال کے جواب میں اقوام متحدہ اور غیر سرکاری تنظیمیں ایک مربوط نظام کے تحت فوری طور پر امدادی سامان فراہم کر رہی ہیں، جس میں خیمے، ترپال، گرم کپڑے، کمبل اور کٹس شامل ہیں۔ مزید یہ کہ سیوریج کے پانی کے نکاس کے لیے بھاری مشینری بھی استعمال کی جا رہی ہے تاکہ صحت کے سنگین خطرات کو کم کیا جا سکے۔اوسی ایچ اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کی وجہ سے ہائپو تھرمیا (شدید سردی سے جسم کا درجہ حرارت خطرناک حد تک گرنا) کا خطرہ بڑھ گیا ہےجس کا شکار سب سے زیادہ بچے ہورہے ہیں جبکہ سیوریج کے سیلاب سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔

ایجنسی نے کہاکہ یونین اور اس کے شراکت داروں نے غذائی امداد، صفائی اور صحت کے منصوبوں کے تحت لاکھوں افراد تک امداد پہنچائی ہے اور دسمبر کے مہینے میں مختلف 60 تقسیم پوائنٹس کے ذریعے ایک ملین سے زائد افراد تک عمومی غذائی امداد پہنچائی گئی۔ علاوہ ازیں ایک لاکھ 50ہزار افراد تک حفظان صحت کی کٹس اور شیمپو کی بوتلیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ان امدادی کوششوں کے تحت 9 سے 26 دسمبر کے دوران 2,000 سے زائد خاندانوں کو مویشیوں کے لیے وٹرنری کٹس اور چارہ بھی فراہم کیا گیا، جس کا مقصد مقامی پیداوار کی حمایت کرنا اور امداد پر انحصار کم کرنا ہے۔

مزید خبریں