وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کا گندم کی کاشت، ذخائر اور عبوری قومی گندم پالیسی کے نفاذ کی صورتحال کا جائزہ

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قومی گندم نگران کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی جس میں ربیع 2025–26 کے لیے گندم کی کاشت کی پیش رفت، موجودہ گندم کے ذخائر کی صورتحال اور عبوری قومی گندم پالیسی (آئی این ڈبلیو پی) کے تحت عملدرآمد کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے قومی گندم نگران کمیٹی کے دوسرے اجلاس کی صدارت کی جس میں ربیع 2025–26 کے لیے گندم کی کاشت کی پیش رفت، موجودہ گندم کے ذخائر کی صورتحال اور عبوری قومی گندم پالیسی (آئی این ڈبلیو پی) کے تحت عملدرآمد کے طریقۂ کار کا جائزہ لیا گیا۔وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اعلامیہ کے مطابق اجلاس کے دوران تمام صوبوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ عبوری قومی گندم پالیسی کے مؤثر اور مربوط نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے صوبائی سطح پر عملدرآمد یونٹس قائم کریں۔کمیٹی نے صوبہ وار گندم کی کاشت کی پیش رفت کا جائزہ بھی لیا۔

پنجاب میں گندم کی کاشت بروقت مکمل کی گئی ہے، جہاں 90 فیصد کاشت ابتدائی مرحلے میں مکمل ہوئی۔ صوبے میں تصدیق شدہ گندم کے بیج کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ یوریا کھاد کے استعمال میں بھی اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ بہتر دستیابی اور نسبتاً کم قیمتیں ہیں۔ ان عوامل کے نتیجے میں زیادہ پیداوار اور بہتر گندم کی فصل کی توقع کی جا رہی ہے جو معیاری بیج اور کھادوں تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے وفاقی وزارت کے معاون کردار کی عکاسی کرتی ہے۔سندھ میں گندم کی کاشت کی پیش رفت تسلی بخش رہی اور صوبہ اپنے کاشت کے اہداف سے تجاوز کر گیا ہے۔

بلوچستان میں بارشوں کی کمی کے باعث اس وقت گندم کی کاشت نسبتاً کم ہے تاہم متوقع بارشوں کے بعد اس کمی کے پورا ہونے کی توقع ہے۔ خیبر پختونخوا میں گندم کی کاشت کا بڑا حصہ مکمل ہو چکا ہے تاہم برف باری والے علاقوں میں کاشت تاخیر کا شکار ہے۔ مجموعی طور پر تمام صوبوں میں گندم کی کاشت کے اہداف کے حصول کی توقع ہے۔ کمیٹی کو موجودہ گندم کے ذخائر کی صورتحال سے بھی آگاہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے یقین دہانی کرائی کہ ملک میں گندم کی کوئی قلت نہیں ہے اور موجودہ غذائی سال کے دوران قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے وافر ذخائر دستیاب ہیں۔ رانا تنویر حسین نے خوراک کے تحفظ کو یقینی بنانے، منڈیوں میں استحکام پیدا کرنے اور بروقت پالیسی اقدامات کے ذریعے کسانوں کی معاونت کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مسلسل ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔