وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے 2025ء کے دوران اختیار کیے گئے اہم پالیسی اقدامات، عملی ردعمل اور بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کر دیں

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):شدید سیلابی صورتحال، طویل ہیٹ ویوز اور بڑھتے ہوئے آبی دبائو کے تناظر میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے سال 2025ء کے دوران اختیار کیے گئے اہم پالیسی اقدامات، عملی ردعمل اور بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔یہ سال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان موسمیاتی شدت کے اثرات سے غیر …

اسلام آباد۔31دسمبر (اے پی پی):شدید سیلابی صورتحال، طویل ہیٹ ویوز اور بڑھتے ہوئے آبی دبائو کے تناظر میں وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے سال 2025ء کے دوران اختیار کیے گئے اہم پالیسی اقدامات، عملی ردعمل اور بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی سرگرمیوں کی تفصیلات جاری کر دیں۔یہ سال ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان موسمیاتی شدت کے اثرات سے غیر معمولی طور پر متاثر ہو رہا ہے اور طویل المدتی، مربوط تیاری کی فوری ضرورت ہے۔ سالانہ جائزہ پیش کرتے ہوئے وزارت کے میڈیا ترجمان اور موسمیاتی پالیسی ایڈووکیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا کہ 2025ء میں موسمیاتی استحکام اور آفات سے نمٹنے کی تیاری پالیسی مباحث اور عملی اقدامات کا مرکز بنی رہی کیونکہ ملک بھر میں شدید موسمی واقعات بار بار سامنے آئے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایات پر 300 روزہ قومی موسمیاتی تیاری اور استحکام منصوبہ متعارف کرایا گیا جس کا مقصد آئندہ مون سون سیزن سے قبل وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے، اس منصوبے میں ابتدائی وارننگ سسٹمز کی بہتری، سیلابی نقصانات میں کمی اور موسمی جھٹکوں سے متاثرہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ محمد سلیم شیخ نے مزید بتایا کہ اس کا مقصد ادارہ جاتی خلا کو کم کر کے ہنگامی ردعمل کی رفتار تیز کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2025ء میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے کئی علاقوں میں شدید اور طویل ہیٹ ویوز دیکھنے میں آئیں جس پر وزارت نے مربوط ہیٹ ایڈاپٹیشن اقدامات کی سفارش کی۔ ان میں عوامی صحت سے متعلق انتباہات، ہنگامی پانی کی فراہمی اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں کولنگ سینٹرز کا قیام شامل تھا۔

محمد سلیم شیخ نے کہا کہ ہیٹ ویوز اب وقتی مظاہر نہیں رہے بلکہ ہماری موسمی حقیقت کا مستقل حصہ بن چکے ہیں۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ شہری منصوبہ بندی، صحت عامہ اور مزدوروں کے تحفظ کے نظام کو بڑھتے درجہ حرارت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ پالیسی سطح پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وزارت نے پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6.2 کے تحت پاکستان کے تیسرے کاربن کریڈٹ منصوبے کی منظوری دی۔ پنجاب میں محفوظ پینے کے پانی کا منصوبہ جو پنجاب صاف پانی اتھارٹی اور ایک جنوبی کوریائی ادارے کے اشتراک سے تیار کیا گیا، غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ کاربن اخراج میں کمی کا ذریعہ بنے گا تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کاربن کریڈٹس اہم ہیں مگر یہ موسمیاتی طور پر متاثرہ ممالک کے لیے وعدہ کردہ بڑے پیمانے کی فنانسنگ کا متبادل نہیں ہو سکتے۔

عالمی سطح پر انہوں نے بتایا کہ برازیل کے شہر بیلیم میں ہونے والی اقوام متحدہ کی موسمیاتی کانفرنس میں پاکستان نے منصفانہ اور قابل پیش گوئی موسمیاتی فنانس، ٹیکنالوجی منتقلی اور ترقی یافتہ ممالک کے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، مگر نقصانات غیر متناسب طور پر زیادہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان واٹر ویک 2025 کے دوران بارشوں میں بے ترتیبی، گلیشیئرز کے پگھلائو اور زیر زمین پانی کی کمی کو زرعی اور شہری مستقبل کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ محمد سلیم شیخ کے مطابق وزارت نے شاہراہوں کے ساتھ موسمیاتی موافق شجرکاری، ای ویسٹ مینجمنٹ کے قومی فریم ورک اور عوامی آگاہی مہمات پر بھی کام جاری رکھا جو پاکستان کے موسمیاتی استحکام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔